تازہ ترین

سفیدہ درخت کے نقصانات۔۔۔۔۔ تحریر ۔۔۔عامر رضا گوندل ۔۔۔۔۔ پیشکش ؛ انعام اللہ گھمن ۔ گجرات

میری بطور کسان ذاتی تحقیق کیمطابق سفیدے کے درخت کے فصلوں ، پرندوں ، اور دوسرے درختوں کیلئے بے پناہ نقصانات ہیں۔
پرندے
سفیدہ درخت آج سے تقریباً 20 سال پہلے ہمارے ضلع سرگودھا میں بطور درخت آیا اور لوگوں نے لگانا شروع کیا۔
جیسے ہی یہ درخت زمینوں پر لگنا شروع ہوا بہت سارے ایسے پرندے جو ٹھنڈے اور گھنے درختوں میں رہائش پذیر ہوتے تھے وہ یا تو مر گئے یا ہجرت کرگے۔ آج 2024 میں اگر دیکھا جائے تو ہمارے علاقے سے۔ طوطا، مرغابی، فاختہ، سیہڑ، بلبل، کوئل، کڑکڑچھی، جنگلی کبوتر ، لالی، جھل ککڑ، نایاب نظر آرہے ہیں۔ کیونکہ یہ تمام خوبصورت پرندے ٹھنڈی چھاؤں اور گھنے درختوں میں اپنے گھونسلے بنا کر رہتے تھے۔ جبکہ سفیدہ کے درخت میں یہ سہولت میسر نہیں ہوتیں۔

. زمین
زمین کے حوالے سے یہ درخت انتہائی خطرناک ہے اس کا ایک پودہ باقی تمام درختوں کی نسبت پانچ درختوں کے برابر زمین سے پانی کھینچتا ہے جس کی وجہ سے زمین خشک ہو جاتی ہے اور ایک پودے کے آس پاس تقریباً 50 مربع فٹ تک فصل نہیں ہوتا اور اگر ہو بھی جائے تو اس کی بڑھوتری نہیں ہوتی۔

.دوسرے درختوں کیلئے نقصاندہ
جب سے لوگوں نے سفیدہ کے درخت لگانے شروع کیے تو ساتھ ہی شیشم کا درخت (ٹاہلی) کیکر کا درخت، شہتوت ، بیری کا درخت، مرنے شروع ہو گئے اور اب تقریباً یہ تمام درخت نایاب ہوتے جارہے ہیں۔ اگر انہیں لگائیں بھی تو یہ درخت انی جوانی سے پہلے ہی مر جاتے ہیں۔
سفیدہ کی چھاؤں بھی نہیں ہوتی اور اگر ہو بھی تو گرم ہوتی ہے۔
یہ پانی کیساتھ ہوا کو بھی کھینچتا ہے اور ہوا میں ٹھنڈک پیدا نہیں کرتا۔
میرے ذاتی مشاہدات کے علاؤہ ایک چھوٹی سی سرچ جوکہ زرعی یونیورسٹی نے کی اس کو نیچے درج کررہا ہوں۔

زرعی یونیورسٹی کی نئی تحقیق کے مطابق سفیدہ عام درختوں سے زیادہ پانی حاصل کرتا ہے اور زیرِ زمین پانی میں کمی کا باعث بن رہا ہے، یہ ڈینگی مچھر کی افزائش کا بھی باعث بنتا ہے، سفیدہ اس خطے کے لئے ٹھیک نہیں، اس خطے کے لئے نیم اور شیشم،ٹالی جیسے درخت ہی سودمند ہیں۔۔۔۔۔وہ لگائیں ۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

*

This will close in 45 seconds

This will close in 38 seconds

This will close in 30 seconds

This will close in 20 seconds