عوامی مقبولیت کی حامل پُرامن جماعتوں کو محض الیکشن سے باہررکھنے کے لیے کالعدم قرار دینا ملکی سلامتی کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

لاہور (پ ر) : آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں انتخابات سے قبل ریاست کا سیاسی مخالفین اور عوام پر بدترین ظلم وجبر کرنا شرم ناک ہے۔ عوامی مقبولیت کی حامل پُرامن جماعتوں کو محض الیکشن سے باہررکھنے کے لیے کالعدم قرار دینا ملکی سلامتی کے لیےانتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اِن خیالات کا اظہار تنظیم اسلامی کے امیر شجاع الدین شیخ نے ایک بیان میں کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر کی حکومت کی جانب سے ’’جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی‘‘ (جے اے اے سی) پر پابندی عائد کرتے ہوئے اُسے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت کالعدم قرار دینا سیاسی جبر کی بدترین مثال ہے۔ حکومتی بیانیہ یہ ہے کہ یہ اقدام مبینہ طور پرجے اے اے سی کا دہشت گردی میں ملوث ہونے اور نفرت انگیز رجحانات کو فروغ دینے کے باعث اٹھایا گیا ہے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ فیصلہ محض سیاسی مخالفین کو انتخابی میدان سے باہر رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔27جولائی کو آزاد کشمیر میں عام انتخابات منعقد ہونے جا رہے ہیں اور سب جانتے ہیں کہ جے اے اے سی نے آزاد کشمیر کے لوگوں کے جائز حقوق کے لیے جس تندہی اور کامیابی سے پُر امن رہتے جدوجہد کی ہے اُس کے نتیجے میں عوامی جذبات مکمل طور پراُن کے ساتھ ہیں۔ اگر یہ جماعت انتخابی عمل میں شریک ہوتی تو کلین سوئیپ کر جاتی اوریہی شرافیہ کا اصل خوف ہے۔پھر یہ کہ اس پابندی کا اطلاق ان تمام تنظیموں پر بھی کیا گیا ہے جو اسی نام یا مشابہ عنوان کے تحت سرگرم ہیں، تاکہ کسی بھی صورت میں عوامی آواز کو انتخابی عمل میں جگہ نہ مل سکے۔ ایسا طرزِ عمل نہ صرف جمہوری اقدار کی پامالی ہے بلکہ عوامی رائے کے صریحاً انکار کے مترادف ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ریاست نے 1971ء میں ملک کے دولخت ہونے سے کچھ سبق نہیں سیکھا اور سیاسی جبر کی تاریخ ایک مرتبہ پھر دہرائی جا رہی ہے۔عوامی مینڈیٹ کو دبانے کے لیے ریاستی طاقت کا بے دریغ استعمال دراصل اس بات کا اعلان ہے کہ حکمران طبقہ اقتدار کے تحفظ کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ امیر تنظیم نے کہا کہ اِسی تناظر میں گلگت بلتستان میں بھی گزشتہ چند دنوں سے سیاسی کارکنوں کی گرفتاری، عوامی ایکشن کمیٹی کے ارکین کی حراست اورحکومت مخالف جماعتوں کے آئینی حقوق کی پامالی اور پارلیمانی نمائندگی سےمحرومی کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔گلگت بلتستان میں انتخابات منعقد ہو رہے ہیں اور ان انتخابات سے قبل عوامی قوتوں کو کچلنے کی کوششیں اس امر کی غمازی کرتی ہیں کہ پاکستان کی حکمران اشرافیہ اقتدار کے تسلسل کے لیے ہر قسم کی اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرنے پر آمادہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت کا اہم ترین ستون عوامی رائے کا احترام کرنا ہے۔ جب عوامی آواز کو مکمل طور پر دبا دیا جائے تو یہ جمہوریت نہیں بلکہ آمریت کی بدترین شکل اختیار کر جاتی ہے۔ لہٰذاوقت کا تقاضا یہی ہے کہ جائز عوامی حقوق اور سیاسی آزادی کا احترام کیا جائے، ورنہ سیاسی جبر نہ صرف آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان بلکہ ملک و ملت اور جمہوری طرزِ عمل کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے، جس کےنتیجے میں ایسے خوفناک حالات پیدا ہو سکتے ہیں جو بھارت اور دیگر طاغوتی قوتوں کی دلی خواہش ہے۔ امیر تنظیم نے کہا کہ حکومت اور ریاستی ادارے سیاسی جبر کے طرزِ عمل سے مکمل گریز کریں اور عوامی مینڈیٹ کا احترام کریں تاکہ ملک کی بقا اورسلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔




