تازہ ترین

وزیراعلی مریم نواز نے کی قیادت میں پنجاب کے بجٹ 2025-2024 کا اعلان کیا گیا جس کا مجموعی حجم 5446 ارب روپے ہے،بجٹ میں نہ تو نئے ٹیکس عائد کیے گئے ہیں اور نہ ہی موجودہ ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ کیا گیا ؛ تحریر : شیزہ عابد راجہ

آبادی کے لحاظ سے پنجاب پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، سب سے بڑے صوبے کی پہلی خاتون وزیراعلی ہونے کا شرف مریم نواز شریف کو حاصل ہے۔ 2024 میں ہونے والے عام انتخابات میں مریم نواز شریف پہلی خاتون وزیراعلی منتخب ہوئی تو پنجاب بے حد مشکلات سے گھرا ہوا تھا، خاتون وزیراعلی کو بے انتہا چیلنجز کا سامنا تھا اس کے باوجود صوبہ پنجاب کے لیے بہترین اقدامات اٹھائے مریم نواز کی قیادت میں سب سے بڑے صوبے کو ترقی کی راہ کی طرف گامزن کیا۔ وزیراعلی مریم نواز نے کی قیادت میں پنجاب کا بجٹ 2025-2024 کا اعلان کیا گیا جس کا مجموعی حجم 5446 ارب روپے ہے،بجٹ میں نہ تو نئے ٹیکس عائد کیے گئے ہیں اور نہ ہی موجودہ ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ کیا گیا ہے،جس میں آمدن کا تخمینہ 4643 ارب چالیس کروڑ روپے مختص جبکہ این ایف سی سے 3683 ارب 10کروڑ روپے صوبے کو ملیں گے۔ صوبائی محصولات کی مد میں گزشتہ سال سے 54 فیصد اضافے کے ساتھ 960 ارب 30کروڑ روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جس میں پنجاب ریونیو اتھارٹی سے 25 فیصد اضافے کے ساتھ 300 ارب روپے، بورڈ آف ریونیو سے 6 فیصد اضافے کے ساتھ 105 ارب روپے اور محکمہ ایکسائز سے 25 فیصد اضافے کے ساتھ 57ارب روپے کے محصولات کی وصولی متوقع ہے جبکہNon Tax Revenueکی مد میں 111 فیصد اضافے کے ساتھ 488 ارب 40کروڑ روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔آئندہ مالی سال میں 603 ارب 10 کروڑ روپے تنخواہوں، 451 ارب 40 کروڑ روپے پینشن اور 857 ارب 40 کروڑ روپے مقامی حکومتوں کیلئے مختص کئے گئے ہیں،عوام کو بجلی بلوں میں ریلیف اور سولر کی مفت تنصیب کیلئے وزیر اعلیٰ روشن گھرانہ پروگرام کیلئے 9 ارب 50 کروڑ روپے مختص ہر غریب کو چھت فراہم کرنے کے لیے اپنی چھت اپنا گھر پروگرام کیلیے 10 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ پنجاب کسان کارڈ کے تحت 5 لاکھ کسانوں کو کل 75 ارب روپے مالیت کے قرض کا منصوبہ 9 ارب روپے کی لاگت سے Chief Minister Solarization of Agriculture Tub Ewells پروگرام شروع کیا جا رہا ہے جس کے تحت پنجاب بھر میں 7000 ٹیوب ویلز کو سولر پر منتقل کیا جائے گا،کسانوں کو آسان اقسان پر ٹریکٹرز کی فراہمی کیلئے چیف منسٹر گرین ٹریکٹر اسکیم کیلیے 30 ارب روپے مختص ڈیری فارمرز اور کسانوں کو آسان اقساط پر قرض کیلئے 2 ارب روپے مختص 8 ارب روپے کی لاگت سے Aquaculture Shrimp Farming کا آغاز، 5 ارب روپے کی لاگت سے شہر لاہور میں ماڈل فش مارکیٹ کا قیام کیا جائے گا۔پنجاب کسان کارڈ کے کے تحت 5 لاکھ کسانوں کو کل 75 ارب روپے مالیت کے قرضے بلاسود فراہم کیے جائیں گے، صوبے میں 7000 ٹیوب ویلز کو سولر پر منتقل کرنے کیلئے 9 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ چیف منسٹر گرین ٹریکٹرز پروگرام کیلئے 30 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز رکھی گئی ہے، جس کے تحت کسانوں کو آسان اقساط اور بغیر سود ٹریکٹرز یا اُس کے لیے قرض فراہم کیا جائے گا۔ 80 ارب روپے کی لاگت سے Chief Minister District SDGs پروگرام کیلئے مختص کرنے کی تجویز،296 ارب روپے کی لاگت سے 2380 کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر و بحالی 135 ارب روپے کی لاگت سے 482 اسکیموں کے تحت خستہ حال اور پرانی سڑکوں کی مرمت و بحالی،2 ارب 50 کروڑ روپے کی لاگت سے انڈر گریجوایٹ اسکالرشپ پروگرام چیف منسٹر اسکلڈ پروگرام کیلئے 2 ارب 97 کروڑ روپے مختص ٹیکسٹائل کی صنعت کو فروغ دینے اور زرِ مبادلہ میں اضافے کیلئے 3 ارب روپے کی لاگت سے پنجاب میں پہلے Garment City کا قیام کھیلوں کے فروغ کیلیے 7 ارب روپے کھیلتا پنجاب منصوبے کیلیے مختص پنجاب کے دیگر اضلاع میں فری وائی فائی انٹرنیٹ سروس کی فراہمی کا منصوبہ لیپ ٹاپ اسکیم کیلیے 10 ارب روپے مختص،67 کروڑ روپے کی لاگت سے لاہور میں State of the Art، Autism اسکول کا قیام 2 ارب روپے کی لاگت سے معذور لوگوں کیلئے چیف منسٹر ہمت کارڈ پروگرام کا اجرا لاہور میں کینسر اسپتال کے قیام کیلئے 56 ارب جبکہ سرگودھا میں عارضہ قلب کے اسپتال کیلیے 8 ارب 84 کروڑ روپے مختص شعبہ صحت کے انقلابی قدم ایئرایمبولینس سروس کیلئے 45 کروڑ روپے مختص،49 ارب روپے کی لاگت سے پنجاب کے 5 بڑے شہروں میں ماحول دوست بس سروس کا آغاز ہر شہری کے گھر تک سرکاری خدمات کو فراہم کرنے کیلئے 34 کرو ڑ روپے کی لاگت سے ”مریم کی دستک” پروگرام کا آغاز جرائم کی موثر روک تھام کیلئے3 ارب 80 کروڑ روپے کی لاگت سے پنجاب کے 19 اضلاع میں Smart Safe City پروگرام کا آغاز،ملکہ کوہسار مری کی کھوئی ہوئی سیاحتی شناخت کو واپس بحال کرنے کیلئے حکومت پنجاب نے 10 ارب روپے کی لاگت سے Murree Development Program شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کیلئے آئندہ مالی سال میں 5 ارب روپے مختص کیے جا رہے ہیں۔ تعلیم حکومت نے شعبہ تعلیم کیلئے آئندہ مالی سال میں مجموعی طور پر 669 ارب 74 کروڑ روپے مختص کیے ہیں جو کہ رواں مالی سال سے 13 فیصد اضافی ہے جس میں سے 604 ارب 24 کروڑ روپے غیر ترقیاتی بجٹ کی مد میں رکھے گئے ہیں جو کہ رواں مالی سال کی نسبت 12 فیصد اضافی جبکہ 65ارب 50 کروڑ روپے شعبہ تعلیم کے ترقیاتی اخراجات کیلئے مختص کیے گئے ہیں جو کہ رواں مالی سال کی نسبت 14 فیصد زیادہ ہے۔اسکول ایجوکیشن کے شعبے کیلئے آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کی مد میں 42 ارب 50 کروڑ روپے کی رقم مختص کی جائے گی۔ جس کے ذریعے سرکاری اسکولوں کی مخدوش عمارات کی بحالی خاص طور پر سیلاب سے متاثرہ اسکولوں کی تعمیر و مرمت اور سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے کاموں کو تیزی سے مکمل کیا جائے گا۔ علاوہ ازیں پنجاب کے اسکولوں میں نئے کلاس رومز کا اضافہ، آئی ٹی لیباٹریز کا قیام اور Afternoon Schools پروگرام کا آغاز بھی آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔ ہائیر ایجوکیشن کیلئے مجموعی طور پر 17 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ کی تجویز کی گئی ہے،محکمہ لٹریسی و غیر رسمی تعلیم کیلئے 4 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ کی تجویز دی گئی ہے،صحت آئندہ مالی سال میں شعبہ صحت کیلئے مجموعی طور پر 539 ارب 15 کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے جو کہ رواں مالی سال سے 14 فیصد زیادہ ہے، اس میں سے 410 ارب 55 کروڑ روپے غیر ترقیاتی بجٹ کی مد میں مختص کیے گئے ہیں جو کہ رواں مالی سال سے 15فیصد زیادہ ہے جبکہ 128 ارب 60 کروڑ روپے مجموعی طور پر شعبہ صحت کے ترقیاتی بجٹ کیلئے تجویز کیے گئے ہیں،شعبہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کے ترقیاتی بجٹ کی مد میں 42 ارب 60کروڑ روپے،Revamping پروگرام Phase-1 کے تحت 16 ارب روپے اور Phase-2 کے تحت 7 ارب 50 کروڑ روپے کی رقم آئندہ مالی سال میں رکھی گئی ہے،مفت ادویات کی فراہمی صوبائی حکومت نے مفت ادویات کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے آئندہ مالی سال کے بجٹ 55 ارب 40 کروڑ روپے کی خطیر رقم مختص کی ہے۔ زراعت / کسان آئندہ مالی سال زراعت کے شعبے میں انقلابی حکومتی اقدامات کا سال ہے۔ مجموعی طور پرآئندہ مالی سال کے ترقیاتی بجٹ میں شعبہ زراعت کیلئے 64سڑکوں کی تعمیر کے لیے 143 ارب روپے مختص حکومت نے آئندہ مالی سال کے دوران صوبے بھر کی سڑکوں کی تعمیر کے لیے 143 ارب روپے مختص کیے جبکہ 528 جاری منصوبوں کیلئے 58 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا ہے۔ جنوبی پنجاب کے منصوبے سڑکوں کی تعمیر و مرمت اور بحالی کے تحت 684 کلو میٹر سڑکوں کی تعمیر و بحالی کی جائے گی، جس کے لیے 31 ارب 48 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، اور اس سے مظفر گڑھ، علی پور پنجند، ترینڈہ محمد پناہ سڑک کے درمیان سڑک تعمیر کی جائے گی۔ اسی طرح 13ارب روپے کی لاگت سے ملتان وہاڑی روڈ کی تعمیر و بحالی، 12 ارب روپے کی لاگت سے بورے والا وہاڑی روڈ کی تعمیر و بحالی، 10 ارب روپے کی لاگت سے 581 بنیادی صحت مراکز کی تعمیر و بحالی،8 ارب 60 کروڑ روپے کی لاگت سے ملتان اور بہاولپور میں ماحول دوست بسوں کی فراہمی،7 ارب روپے کی لاگت سے ملتان سیف سٹی پروگرا م کیلئے مختص کیے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں جنوبی پنجاب میں غیر رسمی اسکولوں میں تعلیم کیلئے 4 ارب روپے، ملتان کینسر اسپتال کی تعمیر کے لیے 1 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ پنجاب میں پہلی بار ترقیاتی بجٹ سے 530 ارب کی dead schemes کو بند کر دیا گیا ہے اور نئی اسکیمز کو شامل کیا گیا۔نئے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگای گیا، نہ ہی موجودہ ٹیکسز کی شرح میں اضافہ کیا گیا۔ ٹیکس بڑھائے بغیر مالیاتی ذرائع سے ریونیو میں 53 فیصد کا اضافہ کیا جائے گا۔ بجٹ میں 842 ارب روپے کے ڈویلپمنٹ اخراجات، 630 ارب کا سرپلس بجٹ شامل ہے۔ سالانہ ڈویلپمنٹ پلان میں 77 نئے میگا پراجیکٹ شامل ہوں گے، وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف صرف 03 ماہ میں ریکارڈ مہنگائی کم کرنے پر داد کی مستحق ہیں۔ سڑکوں کی تعمیر کے لیے 143 ارب روپے مختص حکومت نے آئندہ مالی سال کے دوران صوبے بھر کی سڑکوں کی تعمیر کے لیے 143 ارب روپے مختص کیے جبکہ 528 جاری منصوبوں کیلئے 58 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا ہے۔ جنوبی پنجاب کے منصوبے سڑکوں کی تعمیر و مرمت اور بحالی کے تحت 684 کلو میٹر سڑکوں کی تعمیر و بحالی کی جائے گی، جس کے لیے 31 ارب 48 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، اور اس سے مظفر گڑھ، علی پور پنجند، ترینڈہ محمد پناہ سڑک کے درمیان سڑک تعمیر کی جائے گی۔ اسی طرح 13ارب روپے کی لاگت سے ملتان وہاڑی روڈ کی تعمیر و بحالی، 12 ارب روپے کی لاگت سے بورے والا وہاڑی روڈ کی تعمیر و بحالی، 10 ارب روپے کی لاگت سے 581 بنیادی صحت مراکز کی تعمیر و بحالی،8 ارب 60 کروڑ روپے کی لاگت سے ملتان اور بہاولپور میں ماحول دوست بسوں کی فراہمی،7 ارب روپے کی لاگت سے ملتان سیف سٹی پروگرا م کیلئے مختص کیے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں جنوبی پنجاب میں غیر رسمی اسکولوں میں تعلیم کیلئے 4 ارب روپے، ملتان کینسر اسپتال کی تعمیر کے لیے 1 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ پنجاب میں پہلی بار ترقیاتی بجٹ سے 530 ارب کی dead schemes کو بند کر دیا گیا ہے اور نئی اسکیمز کو شامل کیا گیا۔نئے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگای گیا، نہ ہی موجودہ ٹیکسز کی شرح میں اضافہ کیا گیا۔ ٹیکس بڑھائے بغیر مالیاتی ذرائع سے ریونیو میں 53 فیصد کا اضافہ کیا جائے گا۔ بجٹ میں 842 ارب روپے کے ڈویلپمنٹ اخراجات، 630 ارب کا سرپلس بجٹ شامل ہے۔ سالانہ ڈویلپمنٹ پلان میں 77 نئے میگا پراجیکٹ شامل ہوں گے، وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف صرف 03 ماہ میں ریکارڈ مہنگائی کم کرنے پر داد کی مستحق ہیں۔ ارب 60 کروڑ روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے جو کہ رواں مالی سال سے 127 فیصد زیادہ ہے۔

This will close in 45 seconds

This will close in 38 seconds

This will close in 30 seconds

This will close in 20 seconds