تازہ ترین

عثمان بن عفان (حضرت عثمان غنیؓ)رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ — 18 ذی الحجہ 35ھجری یوم شہادت ؛ تحقیق و پیشکش ؛ انعام اللہ ۔ گجرات

حضرت عثمان بن عفان رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ اسلام کے تیسرے خلیفہ راشد، جلیل القدر صحابی اور رسول اللہ ﷺ کے داماد تھے۔ آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو ذوالنورین (دو نوروں والے) کا لقب حاصل ہوا کیونکہ آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا نکاح نبی کریم ﷺ کی صاحبزادیوں ، حضرت رقیہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا اور ان کے انتقال کے بعد حضرت ام کلثوم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے ہوا۔ آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ اپنی سخاوت، حیاء، عبادت اور نرم مزاجی کی وجہ سے پوری امت میں ممتاز مقام رکھتے ہیں۔ �ولادت اور ابتدائی زندگی :-حضرت عثمان رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ قریش کے معزز خاندان بنو امیہ میں مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔ آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ ایک کامیاب تاجر تھے اور اسلام قبول کرنے سے پہلے بھی اپنی دیانت داری، شرافت اور حسنِ اخلاق کی وجہ سے مشہور تھے۔ �قبولِ اسلام :-حضرت عثمان رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ ابتدائی مسلمانوں میں شامل تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی دعوت پر اسلام قبول کیا اور اسلام کی خاطر کفارِ مکہ کی مخالفت اور سختیوں کا سامنا کیا۔ آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے حبشہ اور بعد ازاں مدینہ کی طرف ہجرت بھی کی۔ �سخاوت اور خدمات :-حضرت عثمان رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی سخاوت ضرب المثل تھی۔ مدینہ منورہ میں مسلمانوں کی ضرورت کے پیش نظر آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے بئر رومہ خرید کر عام مسلمانوں کے لیے وقف کیا۔ غزوۂ تبوک کے موقع پر بھی آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے اپنی دولت کا بڑا حصہ اسلامی لشکر کی تیاری کے لیے پیش کیا۔ اسی وجہ سے آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو “غنی” کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ �خلافت کا دور (644ء تا 656ء) :-حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے بعد 644ء میں حضرت عثمان رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ خلیفہ منتخب ہوئے۔ آپؓ کی خلافت تقریباً 12 سال جاری رہی۔ اس دوران اسلامی ریاست کی سرحدیں مزید وسیع ہوئیں اور شمالی افریقہ، آرمینیا اور دیگر علاقوں تک فتوحات ہوئیں۔ �قرآنِ مجید کی تدوین :-حضرت عثمان رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا سب سے بڑا کارنامہ قرآنِ مجید کے مستند نسخے کی تیاری اور اس کی مختلف علاقوں میں اشاعت ہے۔ آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے قراءت کے اختلافات سے بچانے کے لیے ایک متفقہ مصحف تیار کروایا، جسے آج “مصحفِ عثمانی” کہا جاتا ہے۔ �شہادت :-حضرت عثمان رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے آخری دور میں بعض سیاسی اور انتظامی اختلافات پیدا ہوئے جن سے مختلف علاقوں میں بے چینی پھیلی۔ باغیوں نے مدینہ منورہ میں آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے گھر کا محاصرہ کر لیا۔ آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے مسلمانوں کے خون سے بچنے کے لیے مزاحمت کی اجازت نہ دی۔ آخرکار 18 ذوالحجہ 35 ہجری (17 جون 656ء) کو باغی آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے گھر میں داخل ہوئے اور اس وقت شہید کر دیا جب آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ قرآنِ مجید کی تلاوت فرما رہے تھے۔ آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی شہادت اسلامی تاریخ کے ایک نہایت دردناک باب اور پہلی بڑی داخلی کشمکش (فتنہ) کا آغاز ثابت ہوئی۔ �شخصیت اور فضائل :-عشرۂ مبشرہ (جنت کی بشارت پانے والے دس صحابہرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہم) میں شامل۔انتہائی باحیا شخصیت؛ رسول اللّہ ﷺ نے آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی حیاء کی تعریف فرمائی۔دو صاحبزادیوں سے نکاح کی وجہ سے ذوالنورین کہلائے۔بے مثال سخی اور عبادت گزار تھے۔قرآنِ کریم کی خدمت آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا عظیم تاریخی کارنامہ ہے۔ �

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

*

This will close in 45 seconds

This will close in 38 seconds

This will close in 30 seconds

This will close in 20 seconds