تازہ ترین

روزن زنداں ۔۔۔۔۔ تحریر ؛ طاہر جمیل سیال (سابق صدر گجرات یونین آف جرنلسٹس)

آج صبح سکول ٹائم پہ پورے شہر کا چکر لگانے کے دوران بچوں کا انتہائی تکلیف دہ حالت میں سکولز و کالجز کیلئے آنا جانا دیکھ کر شدید ذہنی اذیت ہوئی ۔گزشتہ کئی روز سے ضلعی انتظامیہ کی پری پلان عوام دشمن پالیسیوں کو ہر کوئی نشانہ بنا رہا ہے لیکن کیا کسی نے یہ سوچا ہے کہ پورے ملک میں گجرات انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بننے کے باوجود بھی اعلی حکام کی طرف سے شاباش اور خراجِ تحسین باعث تشویش ہے ۔آج بھی سکولز اوپن کرنے کا فیصلہ مایوس کن تھا کیا فیصلہ سازوں کو اس بات کا اندازہ نہیں کہ 70فیصد شہر پانی میں ڈوبا رہا اور جہاں لوگوں کو کھانے پینے کے لالے پڑے رہے کیسے وہ ایک ہی رات میں تعلیمی اداروں کا رخ کریں گے ۔ وزیر اعلیٰ کے سامنے 20فیصد کا جھوٹ بولنے والی ضلعی سربراہ نے گزشتہ روز بھی شہر کی چند صاف سڑکوں کی تصاویر وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ بھیج کر اور گجرات کے تین سے چار ہمارےصحافی بھائیوں کے ساتھ شئیر کر کے مکمل سب اچھے کی رپورٹ تیار کر لی۔حالانکہ ابھی بھی صرف گلزار مدینہ روڈ تمبل چوک مچھلی چوک سمیت چوک پاکستان تک تو پانی اتر چکا ہے لیکن پرنس چوک سے جیل چوک اور رحمٰن شہید روڈ اور حسن چوک سے کچہری چوک سمیت بارہ دری روڈ ابھی تک بھی دو دو تین فٹ پانی میں گھرے ہوئے ہیں ۔جبکہ جن شاہراہوں کی مکمل صفائی کا اعلان ضلعی انتظامیہ نے کیا ہے وہ بھی صرف سڑکوں کی حد تک صفائی ہویی ہے اردو گرد کے محلہ جات تو ابھی تک اسی غلیظ اور تعفن زدہ پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔سب اچھے کی رپورٹ دینے والوں سے پوچھا جائے کہ کیا گجرات شہر کی عوام ان پانچ سڑکوں پر آباد ہے جنہیں گزشتہ پانج روز میں سوائے الخدمت فاؤنڈیشن ،تحریک لبیک یا مرکزی مسلم لیگ سمیت چند فلاحی تنظیموں یا پھر گجرات کی غیور عوام نے ہی اپنی مدد آپ کے تحت خوراک یا دیگر اشیاء پہنچائی ہیں۔ کیا ضلعی انتظامیہ نے کسی بھی محلہ کے مکینوں کو خوراک پہنچانے کے اقدامات کیے ہیں۔ان سے پوچھا جائے کہ کیا آپ لوگوں کی نوکری لانگ بوٹ پہن کرصرف پروٹوکول لینا ہے یا پھر صرف نکاسی آب ہی اولین ترجیح ہے کیا بھوکی اور اپنے علاقوں میں مقید لوگوں کو صاف پانی یا دیگر ضروریات زندگی بہم پہنچانا آپ کے فرائض کا حصہ نہیں۔لیکن یہ بات بھی اٹل حقیقت ہے کہ ضلعی حکام کو عوامی مسائل سے کچھ لینا دینا نہیں انہیں صرف اپنے آقاؤں کو راضی کرنے کیلئے سب اچھے کی رپورٹ شیئر کرنی ہے تاکہ ان کی حکومت کو ملکی اور غیر ملکی میڈیا کی نظر میں ایک فعال حکومت ثابت کیا جا سکے ۔ اہل گجرات کے ساتھ ضلعی انتظامیہ کے نارواسلوک پر اعلیٰ حکام کا اطمینان بخش رویہ حقیقتاً باعث تشویش ہے ۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ گزشتہ ادوار (مشرف دور) سے لے آج تک جن ذمہ داران نے بھی گجرات کے سیوریج منصوبہ جات سمیت دیگر ترقیاتی منصوبہ جات میں بظاہر ذمہ داریاں نبھائی ہیں وزیر اعلیٰ گجرات دورہ کے دوران ان تمام کی فہرست مرتب کرواتیں اور ان سب سمیت موجودہ بحران کے ذمہ داران کو بھی کٹہرے میں لا کر کڑے احتساب کا اعلان کرتیں۔پرانی غلطیوں کو پس پشت ڈال کر نئے منصوبے کے لیے فنڈز کا اعلان بظاہر دانشمندانہ فیصلہ نہیں۔کیونکہ جب تک حکومتی وسائل کے ساتھ کھلواڑ کرنے والوں کو نشان عبرت نہیں بنایا جاتا ملک بھر میں گجرات جیسے بلنڈر ہوتے رہیں گے۔ اور ان سب میں نقصان ملکی وسائل اور صرف عوام کا ہے کہ جن کا خون نچوڑ کر ترقیاتی منصوبوں پر آنکھیں بند کر کے عمل کیا جاتا ہے اور عوام کی کھال ادھیڑ کر حصے بخیے کرنے والے نسل در نسل شاہی پروٹوکول اور اعلی مناصب پر ہی فائز رہتے ہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

*

This will close in 45 seconds

This will close in 38 seconds

This will close in 30 seconds

This will close in 20 seconds