
قارئین ! معاشرہ بہتے پانی کی طرح ہوتا ہے ۔جس میں اچھے برے رسم و رواج کچھ بھی مستقل نہیں ہوتا، سب وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے رہتے ہیں ۔کئ اچھی رسمیں ختم ہوتی تو کتنی ہی بری جنم لیتی ہیں ۔اس کے علاوہ معاشرے اپنے ہمعصر دوسرے معاشروں سے بھی متاثر ہوتے ہیں۔ مگر ایک بات حیرت انگیز حد تک سب معاشروں میں کامن رہی ہے کہ ہر معاشرے نے اپنے انداز میں عورت کا استحصال کیا ہے، وہ معاشرے عورت سے خوفزدہ تھے یا کیا وجہ تھی۔بہرحال اس کا جائزہ ہم بعد میں لیں گے پہلے چلتے ہیں واپس اپنے ٹاپک کی طرف۔موجودہ عہد میں پہنچنے تک عورت ہندو سماج میں کن حالات میں سے گزری اس کا تذکرہ (A.s Altekar)اپنی کتاب The position of women in Hindu civilization .Delhi, fifth edition 1983)میں بھی کرتے ہیں ۔ہندو معاشرے میں آرین تسلط کے بعد بہت سے بدلاؤ آئے۔ان سے پہلے ہندو معاشرے میں تعلیم پہ بھی عورت کا حق تھا۔وہ۔ ہر طرح کی تعلیم حاصل کرتیں مگر پھر معاشرہ بدل گیا۔ڈاکٹر مبارک علی اپنی کتاب “تاریخ اور عورت ” میں رقمطراز ہیں کہ ” ہندو سماج میں ستی کی پہلی رسم 316 ق م میں ملتی ہے ۔جب جنرل کوٹیلہ کے مرنے کے بعد اس کی دو بیویاں چتا کے ساتھ جلنا چاہتی تھیں ۔ چونکہ بڑی حمل سے تھی تو اسے اجازت نہ ملی ۔ایسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بعد سے امراء اور شاہی خاندانوں میں یہ رواج عام ہو گیا ۔اگرچہ اس وقت بھی جل کر مرنا یا رہبانیت اختیار کرنا ان دو میں سے ایک کا انتخاب کیا جا سکتا تھا ۔تنترا انداز فکر کے لوگوں نے ستی کے خلاف مہم چلائی ۔انھوں نے کہا کہ عورت دیوی ہے اسے جل کر نہیں مرنا چاہیے ، مگر ستی کی رسم جنگجو قبائل میں مقبول ہوتی گئ (شائد اس کے پیچھے یہ متھ تھی کہ اس دور میں جنگجو حملہ آور قبائل دوسرے قبیلے کی خواتین کو اغواء کر کے لے جاتے تھے اس سے بچنے کے لیے بھی عورتوں کو ستی کی رسم کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا تھا )” ۔ہندوستان کے مندروں میں دیوداسیوں کا ادارہ بھی بڑا مقبول رہا ۔دیوداسءسں رقص و موسیقی میں بڑی ماہر ہوتی تھیں۔مندر کے پروہت یا تو خوبصورت لڑکیاں خریدتے تھے یا پھر لوگ منت مان کر اپنی بیٹی پروہت کے حوالے کر دیتے تھے ۔سکھ گروؤں نے اگرچہ ستی کی رسم کی مخالفت کی مگر یہ رسم ان میں بھی جاری رہی۔ رنجیت سنگھ کی وفات پر اس کی چار بیگمات اور سات کنیزیں اس کی چتا کے ساتھ جل مری تھیں ۔اس کے جانشینوں میں بھی یہ رسم جاری رہی ۔مرہٹوں میں عورتیں کم جلیں مگر شیوا جی کی وفات پر اس کی ایک عورت ساتھ جل مری “۔قارئین! اس رسم میں مذہب کو اس حد تک راسخ کیا تھا کہ کوئ عورت اگر نہیں جلنا چاہتی تو اسے زبردستی گڑھے میں ڈال دیا جاتا تھا۔ آندھرا میں اسے زندہ بھی دفن کر دیا جاتا تھا ۔ راجپوتانہ میں ایسی مثالیں بھی ملیں عورت کا خاوند اگر کہیں اور مرجاتا یا طویل عرصے غائب ہوئے گزر جاتا تو اس کی بیوی اس کی پگڑی اور جوتے کے ساتھ جل مرتی۔افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ عورت اور عیسائی معاشرے کے تعلقات بھی کچھ اچھے نہیں رہے ۔ اس لیے عیسائی پادریوں نے اس بات پہ بھرپور زور دیا کہ عیسائی راہب پادری عورت سے دور رہیں ۔ڈاکٹر مبارک علی لکھتے ہیں کہ “سینٹ آگسٹائن جو بڑا معتبر رہنما تھا۔ وہ عورتوں کا سخت مخالف تھا۔اس کے بارے میں اس کے شاگرد نے لکھا ہے کہ “کوئ عورت اس کے گھر میں قدم نہیں رکھ سکتی تھی۔ وہ کسی عورت سے اس وقت تک نہیں بولتا تھا کہ جب تک کوئ تیسرا شخص گھر میں موجود نہ ہو “۔ چرچ کے رہنماؤں نے ارسطو کے بیالوجی کے نظریات کو اپناتے ہوئے عورت کے کمتر ہونے کی یہ دلیل دی کہ دراصل مکمل تخلیق تو مرد ہے اگر اس تخلیق میں کوئی کمی رہ جاتی ہے تو اس صورت میں عورت پیدا ہوتی ہے لہذا عورت مرد کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ اس لیے عورت پیدائش ہی سے بگاڑ اور ناکامی لیے پیدا ہوتی ہے اس لیے دنیاوی امور میں اس سے مشورہ نہیں لینا چاہیے۔ان کے نزدیک عورت کے بال بھی برائ کی جڑ تھے کیونکہ یہ مردوں میں شہوانی جذبات کو ابھارتے ہیں اور یہ بال عورت کو شیطان کے قریب لے جاتے ہیں” ۔عورت کے خلاف یا عورت کے خوف میں جب جادوگرنیوں کے خلاف مہم چلائی گئی تو بھی چرچ نے ان کے خلاف قانون بنائے جن میں سخت سزائیں دی گئ تھیں ۔(جاری ہے )
خواتین اور معاشرہ ۔۔۔۔۔ تحریر ؛ نازیہ آصف حصہ اول کیلئے یہاں کلک کریں ۔




