






ہم عہد حاضر میں خواتین سے متعلق چند انتہائی ظالمانہ رویے دیکھتے ہیں۔ جنھیں اکثر یہ کہہ کر معاشرہ قبول کرتا ہے کہ یہ ہمارے رسم و رواج اور روایات کا حصہ ہیں ۔اگر بنظر غائر دیکھیں تو ان روایات کا سرا ماضی بعید کے کسی مذہبی جز یا خوف سے جڑا ہوتا ہے یا ایسی روایات کئی قسم کی توہمات سے بھی جڑی ہوتی ہیں اور اگر تھوڑا مزید ماضی میں جایا جائے تو زبان کی طرح رسم ورواج کے سرے بھی مذاہب کی طرح ایک ہی ہو جاتے ہیں ۔سب سے پہلے ذکر کرتے ہیں ابن بطوطہ کے ہندوستان کے سفر نامے کا، جو اس نے تیرھویں صدی میں کیا اور اپنے سفرنامے میں اس وقت کے ہندوستانی معاشرے کا آنکھوں دیکھا احوال بیان کیا ۔یاد رہے کہ اس کے سفرنامے کو موجودہ وقت میں ایک دستاویز کی حیثیت حاصل ہے۔ ابن بطوطہ اپنے سفرنامے میں ہندوستان کا احوال بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ “میں شیخ صاحب (شیخ فرید الدین ) کی زیارت سے واپس آ رہا تھا۔ میں نے دیکھا کہ لوگ ہمارے خیمہ گاہ کی جانب سے بھاگے ہوئے چلے آتے ہیں اور ان میں سے بعضے ہمارے بھی ہیں۔ میں نے پوچھا کہ ” کیا ماجرا ہے”انھوں نے جواب دیا ۔ایک ہندو مر گیا تھا اس کے جلانے کے واسطے جو چتا تیار کی گئی ہے اس میں اس کی عورت بھی ساتھ جلے گی ۔جب وہ جل چکے تو ہمارے ہمراہی واپس آئے ۔وہ بتاتے تھے کہ عورت میت کے ساتھ چمٹ کر جل گئی۔ایک اور واقعہ میں نے دیکھا کہ ایک عورت بناؤ سنگھار کیے ہوئے گھوڑے پر سوار جاتی تھی اور ہندو مسلمان اس کے پیچھے پیچھے تھے ۔ آگے آگے نوبت بجتی جاتی تھی اور بہمن جو ان کے بزرگ ہوتے ہیں ، ساتھ ساتھ تھے ۔چونکہ بادشاہ کا علاقہ تھا اور بادشاہ کی اجازت کے بغیر جلا نہ سکتے تھے ۔ بادشاہ نے جلانے کی اجازت دے دی ۔ اس کے بعد جلایا ۔اس کے کچھ عرصہ بعد یہ اتفاق ہوا کہ میں ایک شہر میں تھا ۔جس کے اکثر باشندے ہندو تھے اور جس کا نام ابرھی تھا۔ اس کا حاکم سامزہ قوم کا مسلمان تھا۔ اس کے نواح میں نافرمان ہندو بستے تھے ۔ایک دفعہ انھوں نے نافرمانی کی تو امیر ہندو مسلمان کو ساتھ لے کر گیا بہت لڑائی ہوئی ۔ سات ہندو رعیت مارے گئے۔ ان میں سے تین کی عورتیں بھی تھیں۔ انھوں نے ستی ہونے کا ارادہ کر لیا ۔ستی ہونا ہندوؤں میں واجب نہیں ہے ۔لیکن جو رانڈیں اپنے خاوند کے ساتھ مر جاتی ہیں ان کا خاندان معزز جانا جاتا ہے اور وہ خود اہل وفا میں شمار ہوتی ہیں ۔جو رانڈیں ستی نہیں ہوتیں انھیں موٹے کپڑے پہننے پڑتے ہیں اور طرح طرح کے مصائب میں زندگی بسر کرنا پڑتی ہے اور انھیں اہل وفا میں سے بھی نہیں سمجھا جاتا لیکن کسی کو ستی ہونے پہ مجبور نہیں کیا جاتا ۔جن تین بیواؤں نے ستی ہونے کا ارادہ کیا تھا وہ تین دن پہلے کھانا کھانے اور گانے بجانے میں مشغول ہو گئیں۔گویا دنیا سے رخصت ہونے کو تھیں ۔ان کے پاس ہر طرف عورتیں آتی تھیں اور چوتھے دن صبح کو ان کے پاس ایک ایک گھوڑا لائے اور ہر ایک بیوہ بناؤ سنگھار کر کے اور خوشبو لگا کے سوار ہو گئ۔ ان کے دائیں ہاتھ میں ناریل تھا جس کو اچھالتی جاتی تھیں اور بائیں ہاتھ میں آئینہ تھا اس میں منہ دیکھتی تھیں اور برہمن ان کے گرد جمع تھے اور اس کے رشتہ دار ان کے ساتھ ساتھ تھے آگے آگے نقارے اور نوبت بجتی جاتی تھی ہر ایک ہندو اسے کہتا تھا کہ ” میرا سلام میرے ماں باپ یا بھائی یا دوست کو کہنا اور وہ کہتی تھی اچھا اور ہنستی جاتی تھی ۔میں بھی دوستوں کو لے کر ان کے جلنے کی کیفیت دیکھنے گیا ۔ہم ان کے ساتھ تین کوس گئے اور ایک ایسی جگہ پہنچے جہاں پانی بکثرت تھا اور درختوں کے انبوے سے اندھیرا ہو رہا تھا ۔بیچ میں چار گنبد تھے ۔ہر ایک گنبد میں ایک بت تھا اور گنبد کے بیچ میں ایک حوض تھا اس پر درختوں کے سایہ کے سبب یہاں دھوپ نہ پڑتی تھی۔ تاریکی میں یہ جگہ گویا جہنم کا ٹکڑا تھا ۔جب یہ عورتیں ان ٹکڑوں کے پاس پہنچیں تو حوض میں اتریں انھوں نے حوض میں غسل کیا اور غوطہ لگایا اپنے کپڑے اور زیورات اتار کر علیحدہ رکھ دیے اور ان کی جگہ ایک موٹی ساڑھی باندھ لی۔ حوض کے پاس ایک نیچی جگہ پہ آگ دہکائ گئ اور جب اس پہ سرسوں کا تیل ڈالا گیا تو وہ شعلہ مارنے لگی۔دس پندرہ آدمیوں کے ہاتھ میں لکڑی کے گٹھے بندھے ہوئے تھے اور دس کے قریب لکڑی کے بڑے بڑے کندے ہاتھوں میں لیے ہوئے تھے ۔نقارہ اور نفیری والے بیوہ کے انتظار میں کھڑے تھے ۔آگ کو ایک رضائی کی اوٹ میں کر لیا تھا۔ تاکہ عورت کی نظر اس پہ نہ پڑے ۔ ان میں سے ایک عورت نے ان سے رضائی کو کھینچ لیا اور کہا، ” کیا میں نہیں جانتی کہ یہ آگ ہے ، مجھے ڈراتے ہو ” ۔پھر اس نے آگ کی طرف ڈنڈوت کی اور اپنے تئیں ڈال دیا۔اسی وقت نقارے اور نفیریاں بجنی شروع ہوئیں۔ لوگ جو لکڑیاں ہاتھوں میں لیے ہوئے تھے ۔آگ میں ڈالنی شروع کیں اور اس کے اوپر بڑے بڑے کندے ڈال دیے تاکہ وہ ہلنے نہ پائے ۔ حاضرین نے بہت شور کیا ۔میں یہ دیکھ کر بے ہوش ہو گیا اور گھوڑے سے گرنے کو تھا کہ میرے دوستوں نے مجھے سنبھال لیا اور میرا منہ پانی سے دھلوایا۔ میں وہاں سے لوٹ آیا ۔اسی طرح ہندو اپنے تئیں دریا میں غرق کر دیتے تھے۔اکثر گنگا میں ڈبو دیتے ان کا خیال تھا کہ اس کا منبع بہشت میں ہے ۔(جاری ہے )








