
واقعہ معراج کا ذکر قرآن و سنت دونوں میں موجود ہے۔ یہ واقعہ نبی کریم ﷺ کے زندگی کے ایک اہم اور معجزاتی واقعے کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ معراج کی تفصیلات مختلف مستند احادیث میں بیان کی گئی ہیں، اور اس کا ایک اجمالی ذکر قرآن مجید کی سورہ بنی اسرائیل (17:1) اور سورہ النجم (53:13-18) میں ملتا ہے۔
قرآن سے حوالہ
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں
“پاک ہے وہ ذات جو لے گئی اپنے بندے کو راتوں رات مسجد الحرام سے مسجد الاقصیٰ تک، جس کے ارد گرد ہم نے برکت رکھی ہے، تاکہ ہم اسے اپنی نشانیاں دکھائیں۔ بے شک وہی خوب سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔”(سورہ بنی اسرائیل: 1)
احادیث سے واقعہ معراج کی تفصیلات
مسجد الحرام سے مسجد الاقصیٰ کا سفر
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔ “میرے پاس براق لایا گیا، ایک سفید جانور جو خچر سے چھوٹا اور گدھے سے بڑا تھا، اس پر میں سوار ہوا اور بیت المقدس پہنچا، وہاں میں نے انبیاء کی امامت کی۔” (صحیح بخاری: 3207)
آسمانوں کا سفر
صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایت کے مطابق، نبی کریم ﷺ کو حضرت جبرائیلؑ کے ساتھ سات آسمانوں کی سیر کروائی گئی۔ ہر آسمان پر مختلف انبیاء سے ملاقات ہوئی:
پہلے آسمان پر حضرت آدمؑ
دوسرے آسمان پر حضرت عیسیٰؑ اور حضرت یحییٰؑ
تیسرے آسمان پر حضرت یوسفؑ
چوتھے آسمان پر حضرت ادریسؑ
پانچویں آسمان پر حضرت ہارونؑ
چھٹے آسمان پر حضرت موسیٰؑ
ساتویں آسمان پر حضرت ابراہیمؑ
(صحیح بخاری: 3207، صحیح مسلم: 162)
سدرۃ المنتہیٰ اور اللہ تعالیٰ سے ملاقات
نبی ﷺ کو سدرۃ المنتہیٰ تک لے جایا گیا، جو ساتویں آسمان پر ہے۔ اللہ تعالیٰ سے ملاقات ہوئی اور امت محمدیہ پر 50 نمازیں فرض کی گئیں، جو بعد میں تخفیف کے بعد 5 رہ گئیں۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے
“اللہ تعالیٰ نے نمازوں کو 50 مقرر کیا، لیکن حضرت موسیٰؑ کے مشورے سے نبی ﷺ نے اللہ سے تخفیف کی درخواست کی، یہاں تک کہ پانچ نمازیں فرض ہوئیں۔”
(صحیح بخاری: 3207، صحیح مسلم: 162)
اس سفر کے دوران نبی کریم ﷺ نے جنت اور جہنم کے مناظر بھی دیکھے، جن کی تفصیلات مختلف احادیث میں آئی ہیں۔
خلاصہ
واقعہ معراج نبی کریم ﷺ کی زندگی کا ایک عظیم معجزہ ہے، جس میں آپ کو جسمانی طور پر مسجد الحرام سے مسجد الاقصیٰ اور پھر آسمانوں تک لے جایا گیا۔ اس سفر میں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں دکھائی گئیں، انبیاء سے ملاقات ہوئی، اور نماز جیسی عظیم عبادت کا تحفہ دیا گیا۔ یہ واقعہ ہمارے ایمان کا ایک اہم جزو ہے اور اس سے اللہ کی قدرت اور نبی ﷺ کی عظمت کا اظہار ہوتا ہے۔




