

نعت وہ خوشبو ہے جو لفظوں سے اٹھتی ہے اور دلوں میں ایمان کی شمع روشن کر دیتی ہے۔ یہ وہ مقدس کلام ہے جو زمین سے اٹھ کر عرش کی طرف سفر کرتا ہے اور پڑھنے والے کے دل کو حضور نبی کریم ﷺ کی محبت سے سرشار کر دیتا ہے۔ اہلِ عشق کے نزدیک نعت کہنا اور سننا محض ادبی عمل نہیں بلکہ روح کی تطہیر، دل کی بیداری اور نسبتِ مصطفیٰ ﷺ کا اعلان ہے۔ اسی طرح ایصالِ ثواب وہ نورانی وسیلہ ہے جس کے ذریعے زندہ دل اپنے مرحومین کے لیے رحمت کی دعائیں آسمانوں تک پہنچاتے ہیں اور محبت کا رشتہ موت کے بعد بھی قائم رہتا ہے۔انہی روحانی اقدار کے زیرِ سایہ ممتاز کالم نگار اور شاعر پروفیسر تفاخر محمود گوندل کے والدین مرحومین کے ایصالِ ثواب کے لیے ایک بابرکت نعتیہ محفلِ مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا۔ یہ محفل محض ایک ادبی نشست نہیں تھی بلکہ ایک روحانی اجتماع تھا جہاں لفظ، دعا اور عقیدت ایک دوسرے میں گھل کر دلوں کو منور کر رہے تھے۔اس بابرکت محفل کی صدارت معروف شاعر منیر صابری کنجاہی نے کی جبکہ صدر پریس کلب کنجاہ یاور عباس بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئے۔ نظامت کے فرائض پروفیسر تفاخر محمود گوندل نے جس وقار، دردِ دل اور خلوص کے ساتھ انجام دیے وہ ان کی والدین سے محبت اور ادب و دین سے وابستگی کا آئینہ دار تھا۔ ان کے الفاظ میں شکر، صبر اور رضا کی کیفیت نمایاں تھی جس نے محفل کو مزید روحانی بنا دیا۔نعتیہ مشاعرہ میں شریک شعرائے کرام نے اپنے اپنے انداز میں سرورِ کائنات ﷺ کی شان میں نعتیہ کلام پیش کیا۔ صاحبزادہ نجم الامین فاروقی (لعروس مونیاں شریف) کی نعت نے دلوں کو جھکا دیا، پروفیسر سید ہارون شاہ بخاری کے اشعار میں فکری گہرائی نمایاں تھی، احسان فیصل کنجاہی، منیر چشتی، لیاقت گڈگور، نجم الدین، نعیم رضا بھٹی، قمر جبار چشتی، ثقلین عامر، نعیم ارشد راز، امجد مرید حیدری، سید غلام مجتبیٰ، پروفیسر ارشد شاہین اور دیگر شعراء کے کلام نے محفل کو عشقِ رسول ﷺ کے نور سے بھر دیا۔ ہر نعت پر سامعین کی آنکھیں نم اور دل سرشار نظر آئے۔اختتام پر سید محمد عبداللہ نے اجتماعی دعا کروائی جس میں مرحوم والدین کی مغفرت، درجات کی بلندی اور اہلِ خانہ کے لیے صبر و استقامت کی دعا کی گئی۔ دعا کے لمحات میں فضا پر ایسی رقت طاری تھی کہ دل خود بخود بارگاہِ الٰہی میں جھک گئے۔اس نعتیہ محفلِ مشاعرہ میں علمی، ادبی اور مذہبی حلقوں سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات کی بڑی تعداد شریک تھی۔ یہ محفل اس حقیقت کی زندہ مثال تھی کہ جب ادب، دین اور اخلاص ایک جگہ جمع ہو جائیں تو وہ محض تقریب نہیں رہتی بلکہ دلوں کی اصلاح اور روحوں کی تازگی کا سبب بن جاتی ہے۔ ایسی محافل معاشرے میں محبتِ رسول ﷺ، احترامِ والدین اور ایصالِ ثواب کی عظیم روایت کو زندہ رکھتی ہیں۔




