
naziaasifadv786@gmail.com
دسمبر 16 سن 1971ء ہماری تاریخ کا سیاہ ترین دن ، جس دن ، جب ہمارا ایک بازو کٹ کر علیحدہ ہو گیا۔قابل اجمیری نے اس سانحے سے بہت پہلے بتا دیا تھا ” وقت کرتا ہے پرورش برسوں حادثہ ایک دم نہیں ہوتا ” شاعر کی یہ بات ہمارے سانحہ سقوط ڈھاکہ پہ بالکل صادق آتی ہے ۔ اس سانحے میں اپنوں کی، غفلت, ہوس، ناعاقبت اندیشیاں تھیں یاد رہے کہ ، پاکستان کا قیام جنھیں ہضم نہیں ہو رہا تھا انھوں نے اس کے قیام سے بھی پہلے اس کے ٹکڑے کرنے کے منصوبوں پہ کام شروع کر دیا تھا۔ جو سقوط ڈھاکہ پہ موقوف نہیں ہوا بلکہ ہنوز زورو شور سے جاری ہے ۔دشمن نے کمال عیاری و مکاری سے کام لیتے ہوئے تقسیم ہند کے وقت سے ہی اس کی سرحدوں میں بارود بھرنا شروع کر دیا تھا ، دشمن اتنا چالاک تھا کہ اس نے شعبہ ہائے زندگی کے کسی بھی میدان کو اپنے تخریبی عمل سے مبرا نہیں چھوڑا تھا۔ ویسے تو سیاسی عسکری زمہ داران پہ بہت بحثیں ہو چکیں ، حمودالرحمن کمیشن میں بھی بہت کچھ سامنے آ چکا ، مگر پھر تاریخ سے سبق سیکھنے کے لیے ہم چند کتب کھنگال کر سبق سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سب سے پہلے شعبہ تعلیم کی بات کرتے ہیں ۔آزادی کے بعد مشرقی پاکستان کے 1290 ہائی سکولوں اور 47 کالجوں میں سے پچانویں فی صد ادارے ہندوؤں کے پرائیویٹ انتظام میں تھے (S.M.Ikram” modern Muslim India and Birth of Pakistan” p 327 جبکہ ان پرائیویٹ اور سرکاری اداروں میں اساتذہ کا بھی یہی تناسب تھا ۔ ” جنھوں نے اسلام اور مسلم ثقافت کے متعلق الجھاؤ اور انتشار پیدا کیا اور اس انتشار نے انھیں صراط مستقیم سے بھٹکا دیا, یہاں یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ مشرقی پاکستان میں سرکاری سطح پہ پرائمری سکول نہ تھے بلکہ پرائیویٹ طور پہ قائم تھے البتہ حکومت انھیں مالی امداد دیا کرتی تھی اور بجٹ کا بڑا حصہ ان سکولوں پر خرچ ہوتا تھا اس کے باوجود ان سکولوں کے انتظام میں حکومت کا کوئ عمل دخل نہ تھا ۔ان مدارس کی ہندو انتظامیہ اپنا سٹاف خود بھارتی کرتی تھی ۔یہ بات بھی انتہائی قابل غور و فکر ہے کہ تقسیم ہند کے وقت ہندو اساتذہ اور پروفیسروں کی کثیر تعداد سکولوں کالجوں اور ڈھاکہ یونیورسٹی میں پڑھاتی تھی، مشرقی پاکستان میں ہی رہی ، لیکن اپنے خاندان اور گھرانے مغربی بنگال (بھارت ) منتقل کر دیے ، ظاہر ہے یہ سب محض اتفاق نہیں تھا۔ انھیں نوے فیصد ہندو اساتذہ نے بڑی چابک دستی سے طلبہ کو یہ باور کروایا کہ 1۔ ۔ ۔ پاکستان کا معاشی طور پہ مستحکم اور قائم رہنا ناممکن ہے ۔غیر بنگالیوں کا مقصد مشرقی پاکستان کو اپنی نوآبادی بنانا ہے “اساتذہ کی جانب سے ان نظریات کے مسلسل پھیلاؤ نے آخر اپنا اثر دکھایا اور بے اطمینانی نے طلبہ ذہنوں میں اپنا رنگ جمانا شروع کر دیا ۔ایک اور شرمناک حقیقت یہ بھی تھی کہ بیشتر درسی کتب کے مضامین کلکتہ سے لکھوائے جاتے رہے اور یہ کتابیں 1970 تک مشرقی پاکستان میں پڑھائ بھی جاری رہیں “۔(Maswani A. K op cit’ )کتنے دکھ کی بات ہے کہ قیام پاکستان کے بعد کی نئ نسل دشمن پاکستان کی تصنیف کردہ کتب پڑھتی رہی ، اس دوران ہماری حکومتیں اور سرکردہ کہاں بھنگ پی کر سوئے رہے میں اس ضمن میں حکومت کو ہی نہیں تمام پڑھے لکھے شرفاء اور زعماء کو اس کا زمہ دار سمجھتی ہوں ۔” ہائی کلاس کی گرائمر اور کمپوزیشن کی ایک مقبول نصابی کتاب میں قواعد کی وضاحت کے لیے جو جملے درج تھے ” کوشلیا یہ کام کر رہی تھی ۔ رام کام کر رہا تھا ۔تاریخ کی درسی کتب میں سب سے بڑی تصویر شیوا جی مرہٹہ کی تھی، جبکہ مسلمان شخصیات کی تصاویر نہ ہونے کے برابر یا بہت چھوٹی تھیں۔ مغل بادشاہ اکبر کی ہندو نواز پالیسیوں کو بہت اجاگر کیا گیا جبکہ اس کے مدمقال مسلم سلاطین کا ذکر حریفانہ انداز میں کیا گیا مزید یہ کہ ان کتب میں ہندی اور سنسکرت کے الفاظ شعوری طور پہ زیادہ استعمال کیے گئے تھے۔ 1967میں ایوب حکومت نے تعلیمی اداروں میں ایک کتاب “دیسو کرسٹی ” ثانوی درجے کے نصب میں شامل کروائی، تاکہ مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان تہذیبی و نظریاتی رشتوں کو اجاگر کیا جا سکے ، مگر عوامی لیگ کی ایما پر اشتراکی اور قوم پرست طلبہ اس کتاب کو نصاب سے خارج کروانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے ۔حتی کہ اس تحریک میں صوبے کے سیاستدان ، شاعر ، ادیب ، صحافی اور دانشور بھی شامل ہو گئے اور کتاب کو نصاب سے خارج کروا کر رہے ۔ (مسعود مفتی حدیث غم اردو ڈائجسٹ، لاہور)بقول کرنل بشارت سلطان ” جب وہ 1970میں ڈھاکہ یونیورسٹی گئے تو پتہ چلا کہ طلبا تاریخ پاکستان پہ کچھ بھی نہیں پڑھنا چاہتے “۔دوسری طرف ناعاقبت اندیشی کی حد یہ تھی کہ ملک کی سب سے بڑی درسگاہ ” پنجاب یونیورسٹی میں فارسی ،عربی ، انگلش فارسی کے علاوہ روسی ترکی جرمن اور جاپانی جیسی زبانیں تو پڑھانے کا رواج تھا مگر چھپن فیصد آبادی کی مادری زبان بنگالی کو متعارف کروانے کا کوئ انتظام نہ تھا “۔قیام پاکستان کے بعد نصاب کو ہر چند تبدیل کرنے کی ضرورت تھی مگر محب وطن زعماء کی کوششوں کے باوجود اسے تبدیل نہ کیا جا سکا چنانچہ یہاں دی جانے والی تعلیم میں لادینیت کی تعلیم تھی جس میں سب کچھ تھا مگر خدا نہ تھا خدا کا رسول اور اس کی کتاب بھی نہ تھی ،نتیجہ۔ ۔ اس ماحول میں مشرقی پاکستان میں پروان چڑھنے والی قوم میں بنگالیت اور ہندوویت کے احساسات پروان چڑھے “(پنجاب یونیورسٹی ، “تاریخ ادبیات مسلمانان پاکستان و ہند جلد 12)۔افسوسناک صورتحال یہاں ختم نہیں ہوتی بلکہ ” 1948 49 میں جادو ناتھ سرکار کی تاریخ بنگال(مسلم دور ) جلد دوئم خود ڈھاکہ یونیورسٹی نے شائع کی۔یہ کتاب متعصب خیالات کا مجموعہ تھی۔اس تعصب کا اندازہ اس واقعے سے بھی کیا جاسکتا ہے کہ یونیورسٹی کے ایک اجلاس میں سید سلیمان ندوی نے شرکت کی ، تو متعصب اساتذہ اور طلباء نے نہ صرف اس جلسے جو درہم برہم کیا بلکہ معزز مہمان پر حملہ بھی کر دیا۔المختصرا، وہ اساتذہ جو تقسیم کے وقت بھی بنگال میں ہی رہ گئے تھے انھوں نے اپنی عظیم خدمات سے وہ کھیپ تیار کر دی تھی جن کے دل ہندوستان کے ساتھ دھڑکتے تھے مگر وہ رہتے مشرقی پاکستان میں تھے ، جنھوں وقت آنے پر حق تعلیم ادا کر دیا۔معاشی سرگرمیاں ۔بنگالی زبان کا ایک لفظ ہے” پوش چیما poshchima )یعنی مغرب سے آنے والا، بنگال میں یہ لفظ مغرب سے آنے والی خونخوار، سمندری ہواؤں کے لیے استعمال ہوتا تھا جو سب کچھ بہا یا اڑا کر لے جاتی تھیں پھر یہی لفظ انگریزوں کے لیے استعمال ہوا۔اس طرح یہ لفظ ظلم، نوآبادیاتی نظام حکومت، استحصال اور ہر نوع کی زیادتی کی علامت بن گیا ۔ پاکستان کے قیام کے بعد یہی لفظ ہندو نیشنلسٹ عناصر نے اسے مغربی پاکستان والوں پر چپکا دیا ۔ ( البدر ۔ ۔ ۔ سلیم منصورخالد) برصغیر جنوبی ایشیا کا سب سے پہلے انگریز کے زیرعتاب آنے والا علاقہ بنگال تھا۔ زندگی کے ہر معزز پیشے کے دروازے مسلمانوں کے لیے بند کر دیے گئے ایسا نظام تعلیم رائج کیا گیا کہ ” اگر قبول کریں تو مسلمان نہ بنیں اور اگر قبول کریں تو مسلمان نہ بنیں “۔امراء اور روءسا کے لیے سر چھپانے کی جگہ نہ رہی ۔(Our Indian Muslman, Dr ww Hunter)مشرقی پاکستان میں اس وقت مجموعی طور پہ جتنی انڈسٹری تھی وہ ملک کی دولت میں صرف 5 کروڑ سالانہ کا اضافہ کرتی تھی اس کے برعکس مغربی پاکستان بیس کروڑ سالانہ کا اضافہ ہوتا تھا ۔48 میں مشرقی پاکستان 7663کلو وزٹ بجلی پیدا ہوتی تھی ، جبکہ مغربی پاکستان کی پیداوار 68800 کلوواٹ تھی۔انگریز دور حکومت سے لے کر بنگال کی ساری تجارت کلکتہ سے ہوتی تھی جبکہ اس وقت کراچی کی بندرگاہ 28لاکھ ٹن سے زیادہ مال اتارتی اور چڑھاتی تھی ۔ جبکہ چٹاگانگ کی بندرگاہ سے پانچ لاکھ ٹن سالانہ سے زیادہ کی تجارت کی وہاں گنجائش نہ تھی۔وقت تقسیم بنگال میں پختہ سڑکوں کی کل لمبائی 240میل تھی جبکہ مغربی پاکستان میں 5503میک تھی ۔مشرقی پاکستان میں ریلوے کی کل لمبائی 1419میل تھی جبکہ مغربی پاکستان میں 5316 میل تھی ۔(ابوالاعلیٰ مودودی “ترجمان القرآن جون 1971).قارئین! ان اعدادوشمار کے بعد سوال یہ بنتا ہے کہ مشرقی پاکستان کے پاس وہ کون سا سونا تھا, کون سی معدنیات تھیں جسے لوٹنے کا الزام مغربی پاکستان پہ لگایا جاتا تھا۔بنگال کی سب سے بڑی دولت پٹ سن تھی۔ جس کی تیاری کے تمام کارخانے کلکتہ اور مغربی بنگال میں تھے۔ مشرقی پاکستان میں صرف گانٹھیں باندھنے کا انتظام تھا ۔تقسیم سے پہلے انگریز اور ہندوؤں کی ساری توجہ کلکتہ پہ تھی، ڈھاکہ کی اہمیت تو سقوط کے بعد ہوئی تھی۔ اس وقت وہاں انڈسٹری نام کی کوئ چیز نہ تھی ۔سڑکوں کی بات کی جائے ” چونکہ مغربی پاکستان کی سرحدیں روس سے ملحق تھیں اس لیے انگریز فوجوں کی نقل و حرکت کے لیے یہاں مواصلات کی سہولیات بہتر تھیں جو کہ تاج برطانیہ نے بہتر دفاع کے لیے بنوائی تھیں ۔ (پاکستان کا المیہ، از۔ ۔ فضل مقیم )۔قارئین یہ صرف دو شعبے ہیں جن کے حقائق بیان کیے گئے ہیں جبکہ سیاسی ، عسکری کمیونسٹ اور سوشلسٹ انتہا پسند تنظیموں اور ممالک نے اس جسم ناتواں پہ جو ستم ڈھائے ان کی کہانی الگ ہے، حقائق کو پوشیدہ رکھ کر صرف پراپیگنڈہ بریگیڈ کو آگے بڑھایا گیا جس نے ملک عزیز کی بنیادیں ہلا دیں، قارئین افسوس تو یہ ہے کہ اس پراپیگنڈے کے آگے بند نہیں باندھا گیا، بلکہ جو کبھی اپنے تھے وہ بھی اسی بریگیڈ کا حصہ بن کر بھول گئے کہ ہمارا کس دشمن سے واسطہ ہے ، ہندو بنیا کس قدر مکار ہے ، قارئین دشمن کے بعض کا حال ان چند لائینز سے کیسے عیاں ہو رہا ہے غور کیجیے ” جو لوگ پاکستان کا خواب دیکھ رہے ہیں وہ جنت الاحمقاء میں رہتے ہیں ” (ولبھ بھائی پٹیل،5مئ،1947)پاکستان غیر فطری طور پہ وجود میں آیا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ایک ناممکن العمل ملائی ریاست ہے جو پانچ سال بعد پھر ہندوستان میں ضم ہو جائے گی۔(جواہر لعل نہرو)۔پاکستان ایک بے تکے تصور پر مبنی تھا بھارتی قیادت پہلے بھی سمجھتی تھی اور اب بھی سمجھتی ہے کہ پاکستان ایک ایسی ریاست ہے جو قطعی طور پہ وجود میں آنے کی مستحق نہ تھی اور نہ اسے وجود میں آنا چاہیے تھا ۔” اندرا گاندھی Daily , “telegraph” (Landon)4 Dec,1971.مگر الحمداللہ ، دشمنان اسلام و پاکستان کی ان دریدہ دہنیوں کے باوجود پاکستان نہ صرف معرض وجود میں آیا بلکہ ہنوز قائم و دائم ہے ، اور دشمن کی مکاریوں کا جواں مردی سے مقابلہ کر رہا ہے ،اللہ پاک میرے پرچم کو سربلند رکھے آمین یہ فقرہ لکھ دیا کس شوخ نے محراب مسجد پر ناداں گر گئے سجدے میں جب وقت قیام آیا




