

پاکستان کے مذہبی و سماجی منظرنامے میں تنظیماتِ اہلِ سنت پاکستان ایک ایسا پلیٹ فارم بن کر ابھرا ہے جو نہ صرف عقیدۂ ختمِ نبوت ﷺ اور ناموسِ رسالت ﷺ کے تحفظ کا عَلَم بلند کیے ہوئے ہے بلکہ اہلِ سنت کے اتحاد، مذہبی آزادی اور سماجی حقوق کے لیے عملی جدوجہد بھی کر رہا ہے۔اسی تسلسل میں حال ہی میں لاہور کے ایک مقامی ہوٹل میں اہلِ سنت جماعتوں، خانقاہوں، وفاقوں اور مذہبی اداروں کی مشترکہ مجلسِ شوریٰ کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس نے موجودہ حالات میں ایک نئی فکری اور تنظیمی سمت متعین کی۔اجلاس کی صدارت اور میزبانی کی سعادت ملک کی ممتاز شخصیات کو حاصل ہوئی۔سابق وفاقی وزراء سید حامد سعید کاظمی، پیر محمد امین الحسنات شاہ، جمعیت علمائے پاکستان و ملی یکجہتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر الوری، آستانہ عالیہ قادریہ کے سجادہ نشین پیر میاں عبدالخالق القادری، اور پیر آف مانکی شریف پیر زادہ محمد امین قادری اس اجلاس کے نمایاں میزبانوں میں شامل تھے۔یہ اجتماع بظاہر ایک ہنگامی شوریٰ اجلاس تھا، لیکن اس نے اہلِ سنت کے تمام دھڑوں کو ایک میز پر لا کر اجتماعی شعور اور قیادت کے اتحاد کا مظاہرہ کیا — جو حالیہ مذہبی تنازعات اور حکومتی اقدامات کے تناظر میں ایک مثبت پیش رفت ہے۔اجلاس کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیہ نے کئی اہم نکات پر روشنی ڈالی۔اعلامیہ کے مطابق، تنظیماتِ اہلِ سنت پاکستان کے وفد کے ساتھ حکومتی مذاکرات میں طے پانے کے باوجود مساجد، مدارس اور خانقاہوں کی بحالی اور خطباء و علماء کی رہائی کے وعدے پورے نہیں کیے گئے۔اس کے برعکس مزید دینی مراکز کو بند کیا جا رہا ہے اور علمائے کرام کو گرفتار کیا جا رہا ہے، جس سے یہ تاثر گہرا ہو رہا ہے کہ یہ کارروائیاں کسی ایک جماعت کے خلاف نہیں بلکہ پورے اہلِ سنت کو نشانہ بنانے کے مترادف ہیں۔یہ جملہ اس اجلاس کے لبِ لباب کی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ اس میں اہلِ سنت قیادت کے اس اجتماعی احساس کا اظہار ہے کہ مذہبی طبقے کو سیاسی اور انتظامی دباؤ کے ذریعے کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔اعلامیہ میں سانحہ مریدکے کے حوالے سے گہرے دکھ اور غم کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ اس سانحہ کی شفاف تحقیقات کے لیے آزاد عدالتی کمیشن قائم کیا جائے تاکہ حقائق قوم کے سامنے آئیں اور ذمہ داروں کا تعین ہو سکے۔ساتھ ہی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ شہداء کی لاشیں ورثاء کے حوالے کی جائیں، زخمیوں کا علاج سرکاری خرچ پر کیا جائے اور واقعے میں کسی قادیانی یا مذہبی تعصب کے عنصر کی بھی انکوائری کرائی جائے۔یہ مطالبات نہ صرف انصاف کے تقاضے ہیں بلکہ مذہبی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے لیے بھی ناگزیر ہیں۔اجلاس میں کئی قراردادیں متفقہ طور پر منظور ہوئیں جنہوں نے تنظیماتِ اہلِ سنت کے موقف کو مزید واضح کر دیا۔تحریکِ لبیک پاکستان پر عائد پابندی کو مسترد کرتے ہوئے حکومت سے کہا گیا کہ وہ سپریم کورٹ میں اس کے جواز کو پیش کرے۔اسی طرح مینارٹی ایکٹ 2025ء اور نیشنل کمیشن فار مینارٹی کو قانونِ ناموسِ رسالت ﷺ اور ختمِ نبوت ﷺ کے خلاف قرار دے کر مکمل طور پر رد کیا گیا۔اجلاس نے فلسطین پر اسرائیلی جارحیت، طالبان کی دراندازی، اور مودی حکومت کی بریلی شریف میں کارروائی کی بھی مذمت کی۔اسی دوران وقف بل کو بھی مسترد کرتے ہوئے حکومت سے فیصلے پر نظرِ ثانی کا مطالبہ کیا گیا۔اہلِ سنت کا کردار اور نئی سمت تنظیماتِ اہلِ سنت کے قائدین نے واضح کیا کہ اہلِ سنت پاکستان کی ۸۰ فیصد آبادی پر مشتمل ہیں، اس لیے ان کے مذہبی و سماجی حقوق کا احترام ریاستی پالیسی کا بنیادی حصہ ہونا چاہیے۔یہ پیغام دراصل مذہبی قوتوں کے اس اجتماعی شعور کی علامت ہے جو اب اپنے اتحاد اور اجتماعی موقف کے ذریعے قومی سطح پر مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔اجلاس میں اعلان کیا گیا کہ 25 جنوری 2026 کو مینارِ پاکستان لاہور میں ایک ملک گیر سنی کانفرنس منعقد کی جائے گی۔یہ اجتماع اہلِ سنت کے اتحاد، مذہبی ہم آہنگی اور قومی استحکام کا نیا باب رقم کر سکتا ہے۔تنظیماتِ اہلِ سنت پاکستان کا یہ اجلاس محض ایک وقتی ردِ عمل نہیں بلکہ ایک فکری تحریک کا پیش خیمہ محسوس ہوتا ہے۔اس نے اس امر کو واضح کر دیا کہ اہلِ سنت کی قیادت اب نہ صرف اپنے مذہبی تشخص بلکہ قومی تشخص کے دفاع کے لیے بھی یکجا ہے۔یہ اتحاد اگر تسلسل کے ساتھ برقرار رہا تو یقیناً پاکستان میں مذہبی ہم آہنگی، امن، اور عدل کی فضا کو مضبوط بنیادیں مل سکتی ہیں۔“اہلِ سنت کا اتحاد نہ صرف عقیدہ کا دفاع ہے، بلکہ یہ پاکستان کے نظریاتی وجود کی حفاظت کی جدوجہد بھی ہے۔”




