تازہ ترین

قلم، خیال اور احساس کا امتزاج ؛ تحریر : رزاق احمد غفاری

ادبی حوالہ سے گجرات میں ہمیشہ نمایا ںکام ہوا ہے اور گجرات کی اہم شخصیات نے ادب میں اپنا مقام پیدا کیا ہے اور گجرات کے لوگ ادبی سرگرمی کے فروغ کے لیے ہمیشہ سے کوشاں ہے المیر ٹرسٹ لائبریری مرکز تحقیق وتالیف اسی سلسلہ میں کام کر رہی ہے گزشتہ دنوں المیرٹرسٹ لائبریری کا اتوار ی اکٹھ مورخہ26 اکتوبر کو منعقد ہوا یہ اکٹھ ایک ادبی نشست کی شکل اختیار کر گئییہ محفل دراصل قلم کی جولانیاں، خیال کی پرواز اور احساس کی لطافت کا حسین امتزاج تھی۔آغاز نوجوان افسانہ نگار بلال حسن جکھڑ کے افسانے سے ہوا، جس میں زندگی کے کرب اور انسانی جذبوں کی جھلک نمایاں تھی۔ حاضرین نے انہماک سے افسانہ سنا — ہر لفظ گویا دل میں اترتا چلا گیا۔محفل کا ایک دل کو چھو لینے والا لمحہ وہ تھا جب محترم حاجی محمد اسلم جاوید نے سیرتِ رسول ﷺ پر انعام یافتہ کتاب الرحیق المختوم بطورِ تحفہ سید خالد مسعود اور بلال حسن جکھڑ کو پیش کی، جبکہ عارف علی میر ایڈووکیٹ کو مولانا مودودیؒ کی شہرۂ آفاق تصنیف مسئلۂ قومیت عطا کی۔یہ محض کتابوں کا تبادلہ نہیں تھا بلکہ علم و فکر کی مشعل ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ تک پہنچانے کا خوبصورت منظر تھا۔نشست کا فکری رنگ اُس وقت اور نکھر گیا جب ندیم طارق نے احسان فیصل کنجاہی کی کتاب اوہلے بہہ کے پر نہایت جامع اور فکر انگیز تبصرہ پیش کیا۔ان کے الفاظ میں جذبے کی حرارت بھی تھی اور مطالعے کی گہرائی بھی۔شرکائے محفل نے نہ صرف بھرپور داد دی بلکہ گفتگو کے دوران تبصرے کے نکات پر تفصیلی تبادلہ خیال بھی کیا۔ڈاکٹر اظہر محمود چوہدری نے اپنے منفرد انداز میں مختلف علمی و تاریخی موضوعات پر اظہارِ خیال کیا اور تاریخ کے اہم واقعات کو تحقیق کی روشنی میں بیان کیا۔اسی طرح چوہدری شاہد حمید وڑائچ نے اپنی تازہ تحقیقات سے شرکائے محفل کو آگاہ کیا اور پنجاب کی مختلف قوموں کے تاریخی پس منظر پر نہایت دلچسپ گفتگو کی۔اس بزم میں شریک اہلِ علم و ادب میں ولایت خان بٹ، ڈاکٹر اظہر محمود چوہدری، شاہد حاکمی (لالہ موسیٰ)، سجاد حسین، چوہدری شاہد حمید وڑائچ، پروفیسر نعمان احمد، ندیم اللہ ایڈووکیٹ، چوہدری خاور جاوید ترابی ایڈووکیٹ، سید خالد مسعود، نعیم احمد سرا، محمد سلیم اختر، حمزہ نعیم سرا اور دیگر اہلِ ذوق شامل تھے۔ہر شریکِ محفل اپنے ساتھ علم و فن کا ایک نیا زاویہ لایا، اور یوں یہ نشست مکالمے اور بصیرت کی حسین تصویر بن گئی۔آخر میں بانی و مہتمم المیر ٹرسٹ لائبریری و مرکزِ تحقیق و تالیف، عارف علی میر ایڈووکیٹ نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور مہمانوں کے لیے پُرتکلف ہائی ٹی کا اہتمام کیا۔سچ تو یہ ہے کہ ایسی فکری و تخلیقی محفلیں گجرات کی ادبی پہچان ہیں — یہ وہ محفلیں ہیں جو کتاب، قاری اور قلم کے درمیان ایک زندہ رشتہ قائم رکھتی ہیں۔جب تک المیر ٹرسٹ لائبریری جیسے ادارے اور ان کے سرپرست اہلِ ذوق و اہلِ علم کے لیے یہ چراغ روشن رکھتے ہیں، گجرات کی ادبی فضا کبھی بےنور نہیں ہوگی۔اللہ تعالیٰ اس روشن روایت کو دوام عطا فرمائے۔ آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

*

This will close in 45 seconds

This will close in 38 seconds

This will close in 30 seconds

This will close in 20 seconds