تازہ ترین

کیا ہم تعلیم سے اکتا گئے ہیں ؟ تحریر ؛ نازیہ آصف

naziaasifadv20@gmail.comنازیہ آصف۔۔۔۔۔

یہ خبر سننے میں آ رہی ہے کہ “امسال یونیورسٹیز میں داخلے کم ہوئے ہیں پنجاب یونیورسٹی جیسے نامور ادارے میں اس سال چار ہزار کم طلبہ نے داخلے کے لیے اپروچ کیا ہے۔تعلیم شائد ہماری ترجیحات میں شامل نہیں رہی اس لیے یہ خبر دوسری خبروں کی گرد میں کہیں نیچے دب گئی ہے۔جب کہ دوسری طرف عالم یہ ہے کہ کیو ایس ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ کے مطابق مسلم ممالک کی جامعات جیسے کہ ملائیشیا کی ملایا یونیورسٹی ، اور سعودی عرب کی کنگ فہد پٹرولیم اینڈ منرلز یونیورسٹی پہلی سو جامعات میں جگہ بنانے میں کامیاب رہی ہیں۔جبکہ ہم پہلی چار سو یونیورسٹیز میں بھی کہیں نہیں ہیں ۔ہمارا حال یہ ہے کہ پنجاب یونیورسٹی کے محترم ترجمان فرماتے ہیں کہ ” داخلوں کی کمی ہمارا مسلہ نہیں ہے ” حیرت ہے کہ یہ یونیورسٹی کا مسلہ کیونکر نہیں ہے , مگر یہ بھی سچ ہے کہ مینجمنٹ کا مسلہ صرف ان کی اپنی مراعات ہے جو نہ صرف انھیں مل رہی ہیں بلکہ ہرسال ان میں باقاعدگی سے اضافہ بھی ہو رہا ہے ۔ہم انڈیا کو ایک جنگ میں ہار دے کر پھولے نہیں سما رہے جبکہ یہی ملک صرف آئی ٹی کے پروفیشن کو سپورٹ کر کے 210 بلین ڈالر سالانہ کما رہا ہے جبکہ ہمارے ہاں پورے ملک کی ٹوٹل ایکسپورٹ صرف پینتیس بلین ڈالر ہے ۔یہ جدت کی دنیا ہے۔ نے نئے آئیڈیاذ کی دنیا ہے ۔ جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے، بہت سی چیزیں متروک ہو چکیں، نت نئ چیزوں کے اختراع کا وقت ہے ، دنیا بہت آگے بڑھ چکی ہے جبکہ ہم ابھی تک منشی پریم چند ، منٹو ، مذہبی ، لسانی حدود میں سر کھپاتے نظر آ رہے ہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ ان پہ بھی ریسرچ کر کے بھی ہم کوئ پرامن یا مثالی معاشرہ نہیں بلکہ منتشر معاشرہ ہی تخلیق کر رہے ہیں ۔ جبکہ ہمارے ہاں پچھلے کئ سالوں سے شائع ہونے والے ریسرچ پیپرز میں دیکھ لیجیے کوئی میڈیکل، آی ٹی، اکانومی، انجینئرنگ ، سے متعلق نہیں ہے۔ کیونکہ بقول ہماتی یونیورسٹیز کے “ان کے پاس فنڈز ہی نہیں ہیں”۔ ہمارے کرمفرا اپنے بجٹ کا صرف دو فیصد تعلیم کے لیے مخصوص کرتے ہیں، جبکہ ہمارا حریف ملک پانچ سے چھ فیصد تعلیم پہ لگا کر دنیا کے جدید ترین پرفیشنز پہ اپنی اجارہ داری قائم کر رہا یے ۔ ان کی یونیورسٹیوں میں شرح داخلہ بھی 30 فیصد ہے جبکہ بنگلہ دیش میں 20اور ہمارے ہاں یہ شرح کم ہو کر محض 12فیصد رہ گئ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری جامعات دوبارہ داخلے اوپن کرنے پہ مجبور ہو رہی ہیں جبکہ پہلے رواں ماہ کلاسز شروع ہو چکی ہوتی تھیں۔اگرچہ یونیورسٹی کی طرف مفقود ہوتے ہوئے رحجان کی کئ وجوہات ہو سکتی ہیں ۔لیکن ان میں بطور خاص یونیورسٹیوں کی فیس میں ہوش ربا اضافہ ہے ۔ایک متوسط درجے کا خاندان بمشکل کالج تک ہی پہنچ پاتا ہے اس کے بعد اس کی زمہ داری میں اپنی فیملی کو سپورٹ کرنا بھی ہوتا ہے جس میں کسی قسم کی مدد کے لیے ہماری یونیورسٹیز عاری ہیں۔طلباء کا یونیورسٹی کی طرف کم ہوتے ہوئے رحجان کی بڑی وجہ ہمارے یونیورسٹی سلیبس کا عصر حاضر کے ساتھ ہم آہنگ نہ ہونا بھی ہے ۔کیونکہ جس تیزی سے دنیا ترقی کر رہی ہے اس میں نوجوان کم وقت میں زیادہ سیکھنا چاہتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں مختصر ترین سلیبس کو بھی پھیلا کر پانچ سالہ ڈگری تک پھیلا دیا گیا ہے ۔ ایل ایل بی کو ہی لے لیجیے ، پروفیشنل ڈگری ہے مگر وہی کورس جو کالج کے سستے ایف اے کے بعد تین سال میں ڈگری مل جاتی تھی اب ایف اے کے بعد پانچ سال لگانے پڑتے ہیں جس سے سمسٹر سسٹم کی بھاری فیسوں نے والدین کو شرمندہ اور طلبا کو محنت سے یکسر عاری کر دیا ہے ۔ نتیجہ جب وہ پانچ سال بعد ڈگری لے کر نکلتے ہیں تو ویسے ہی کورے ہوتے ہیں زیادہ تر کو درخواست لکھنا بھی نہیں آتی۔جامعات کے بے توقیری کی بڑی وجہ سیاسی بھرتیاں ،ملک میں سیاسی عدم استحکام ، غیریقینی مستقبل نان پروفیشنل رویے بھی ہیں ۔ افسران سیاسی وابستگیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہیں اور سیاسی لسانی علاقائی تعصب کو برتتے ہوئے ایسے عناصر کو پروموٹ کرتے ہیں جو انھیں تو سوٹ کرتا ہے مگر ادارے اور ملک اس آڑ میں ناکام ہو جاتے ہیں ۔حالیہ موسم گرما میں ملکی یونیورسٹی ہاسٹلز میں ہونے والے آپریشنز میں منشیات، اسلحہ اور غیر ملکی افراد کی بھاری تعداد برآمد کی گئ ہے جو اپنی اجارہ داری قائم کر کے اپنے مذموم مقاصد کو پورا کر رہے تھے بدقسمتی سے کئ اساتذہ بھی اس فعل قبیح میں ملوث پائے گئے ہیں ۔ یہاں تک شنید ہے کہ وفاق کے ماتحت ادارے میں غیر ملکی این سے کے پمفلٹ تک بھی ملے ہیں ۔یہ لمحہ فکریہ ہے کہ جب دنیا چاند سے ہوتے ہوئے سے آئی ٹی کے دور میں داخل ہو رہی ہے ہمارے اداروں میں ابھی تک ریسرچ پیپر کی جگہ ملک دشمن عناصر کے بانٹے گئے پرچے برآمد ہو رہے ہیں۔سوال یہ بھی بنتا ہے کہ سیکیورٹی ہونے کے باوجود اتنی کثیر مقدار میں یہ منشیات یونیورسٹی کے اندر کس طرح پہنچتی رہی ہیں۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ اتنا سب کچھ ہو چکنے کے بعد بھی یونیورسٹیز میں ڈرگ مافیاز کو سزا ملتی نظر نہیں آ رہی۔بڑی بڑی ہاؤسنگ سوسائٹیز ،اور کنالوں پہ مشتمل گھروں نے ہر دو طرح سے نوجوانوں کو متاثر کیا ہے۔ اس سے ایک تو پیسہ کسی پیداواری شعبے میں لگنے کی بجائے ایک جگہ جمع ہو جاتا ہے۔ دوسرا آس پاس کے سینکڑوں نوجوان روپے پیسے کی ریل پیل دیکھ کر قانونی غیر قانونی ہر طریقے سے بیرون ملک جانے کے متمنی ہیں۔ ضرورت ہے کہ وقت کی نبض کو سمجھ کر اقدامات کیے جائیں ، روپے پیسے کا ارتکاز روکا جائے اور ملک کے معاشی حالات کو صحیح نہج پہ لا کر قوم کا اعتماد بھال کیا جائے ، ورنہ تعلیم سے دوری اور ملک سے نوجوانوں کا کثیر تعداد میں انخلاء کوئ بھیانک روپ بھی دھار سکتے ہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

*

This will close in 45 seconds

This will close in 38 seconds

This will close in 30 seconds

This will close in 20 seconds