
بلاناغہ ایک ہی طرح کی خبریںمدرسے میں قاری کے تشدد سے طالبعلم ہلاک۔مدرسے میں مولوی کی بچے سے زیادتی ، بچے کی حالت غیر۔مدرسے میں بچہ آہنی زنجیروں میں جکڑا ، بچے کے سارے جسم پہ تشدد کے نشانات، بچہ ہلاک۔مدرسے میں قاری کا بچے پر الٹا لٹکا کر تشددآئے روز ، بلکہ روزانہ کسی نہ کسی علاقے یا شہر سے ایسی خبر آتی ہے ۔مدرسے ایسی جگہیں ہیں جہاں بچے دینی تعلیم حاصل کر کے نکلتے ہیں ۔ہم عام انسان توقع کرتے ہیں کہ مدرسے کے تعلیم یافتہ بچے دینی تعلیم کے بعد اخلاقی حوالے سے ایک بہترین انسان کا نمونہ ہوں گے ۔لیکن جب مدرسوں سے اس طرح کی خبریں آئیں گی تو ہم وہاں پڑھنے والے نوجوانوں سے کیا توقع کر سکتے ہیں ، وہ کتنے محفوظ شہری ہوں گے۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک قاری ، حافظ یا مولوی صاحب کو اتنے تشدد کا اختیار کون کون دیتا ہے ۔ ۔ ۔؟خود والدین ، جو یہ سوچ کر بچے پیدا کیے جاتے ہیں کہ ” پالنے والا وہی ہے ، اس نے ہر جان کا رزق لکھ رکھا ہے ” مگر یہ سوچنا بھول جاتے ہیں کہ کیا آپ میں اتنے بچوں کا وسیلہ بننے کی ہمت ہے ، اتنے بچوں کی تربیت کی زمہ داری آپ لے سکتے ہیں ۔ ۔۔ ۔؟انسان کے بچوں کی ضرورت محض روٹی کا نوالہ ان کے منہ میں ڈالنے کی حد تک نہیں ہوتی ۔ اچھے نوالے کے ساتھ اچھی تعلیم و تربیت، مناسب صاف ستھرا ماحول، رہائش، اور عہد حاضر کے مطابق باقی سہولیات بھی ان کا حق ہوتی ہیں ۔مگر والدین کی عقل ٹھکانے تب آتی ہے جب چھ سات بچے ہو جاتے ہیں ان کی باقی ضروریات تو درکنار وہ اپنی اور ان کی روٹی بھی پوری نہیں کر سکتے۔پھر زیادہ تر والدین ان بچوں کو دین کے لیے وقف کرنے کا ٹھان لیتے ہیں اور ایسے مدرسے کی تلاش کرتے ہیں جہاں دینی تعلیم کے ساتھ انھیں رہائش اور روٹی کپڑا بھی ملے یا پھر کسی ڈھابے میں برتن مانجھنے پہ لگا دیتے ہیں جہاں پھر بجائے والدین کے وسیلہ بننے کے بچہ ان کے دوا دارو کا پیدائشی وسیلہ بن جاتا ہے۔ ایسے مدرسے چندوں پہ چلتے ہیں یا غیر ملکی فنڈذ پہ، اب خود والدین سوچ لیں کہ دوسروں کے پیسوں پہ پلنے، بڑھنے، پڑھنے والے بچوں کو آپ کے عقائد کے مطابق تعلیم کیوں دی جائے گی اور ان کے ساتھ کیسا سلوک کیا جائے گا۔دوسری طرف مدرسے کے قاری اور مولوی صاحبان ان بچوں کو اپنی ذاتی ملکیت سمجھتے ہوئے ان سے ہر طرح کا سلوک روا رکھنا اپنا حق سمجھتے ہیں ۔بعض مدرسے تو ایک ایک مہینے سے پہلے والدین کو بچوں سے ملنے کی اجازت بھی نہیں دیتے ۔ان حالات میں جو اوپر بیان کیے ہیں والدین کی سب سے بڑی زمہ داری یہ بنتی ہے کہ وہ چادر دیکھ کر پاؤں پھیلائیں ، جتنے ان کے ذرائع ہیں بچوں کی تعداد اسی حساب سے ہو۔آپ والدین جب بچوں کی ساری خدمات مدرسے کے قاری یا مولوی کے حوالے کر دیں گے تو وہ غصہ بھی کرے گا اور پھر تشدد بھی۔غور کیجیے ایک پانچ چھ سال یا آٹھ دس سال کے بچے کو آپ قاری یا مولوی کی ملکیت میں دے دیتے ہیں تو وہ اسے اپنی سوچ اور نظریے کے مطابق ڈھالنا چاہتا ہے مگر بچہ جب وہ نہیں کر پاتا تو استاد کو اپنی ذات کی منفیت نظر آتی ہے، وہ بچے کو گستاخ اور ڈھیٹ سمجھ کر اسے سبق سکھانے لگتا ہے، اور اسی سبق سکھانے کے دوران یہ لمحہ بھی آ جاتا ہے جب بچے جاں سے ہی جاتے ہیں ۔خدارا نظریات و روایات کو سمجھے بنا اندھا دھند عقیدے مضبوط نہ کیے جائیں ، بیشک اللہ پاک کی ذات رازق یے مگر وہ رزق گھر بیٹھے نہیں دیتا،حیلہ کرنا پڑتا ہے ۔ جہاں والدین خود غربت ، مندے حالوں ، کم خوراک میں پلے ہوتے ہیں ۔ ان کی استعداد ایک بچے کے رزق کی تلاش کرنے کی ہے تو وہ سات بچوں کا رزق کیسے تلاش کر سکیں گے ۔دوسری طرف مدارس میں معلمین کی عموما اتنی تنخواہیں نہیں ہوتیں کہ وہ اپنی فیملی کو ساتھ رکھ سکیں۔ وہ دور دراز مدارس میں رہتے ہیں تو اپنی جسمانی ضروریات کی تکمیل کے لیے انھیں بچوں کو بے دریغ استعمال کرتے ہیں اور اگر ایسے بچوں کی زندگیاں بچ بھی جائیں، ان حالات سے بھی گزر جائیں تو آپ خود سوچ سکتے ہیں کہ وہ معاشرے میں کیسے انسان بنیں گے ۔خدارا خیال کیجیے، بچے آپ کے ہیں ،آپ ان کو دنیا میں لانے کے زمہ دار ہیں تو ان کی بلوغت تک ان کی تمام حاجات و امور کے بھی زمہ دار آپ ہیں، مدرسے کے قاری یا مولوی صاحبان نہیں۔آخرت میں بھی ، مدارس میں روا رکھے جانے والے عمومی سلوک یا تشدد کے زمہ داران آپ والدین ہوں گے۔اللہ پاک پوچھیں گے ، بچہ آپ کا تھا تو زمہ داری دوسرے کی کیسی ہو گئ۔ ۔ ۔ ۔ ؟قارئین !لیکن اس بات کا قطعاَ یہ مطلب نہیں کہ سارے مدارس یا ان کے معلمین ہی ایسے ہیں، بہت سارے اچھے ادارے بھی ہیں ہم ان کو سراہتے بھی ہیں وہ بچوں کو دینی کے ساتھ دنیاوی تعلیم بھی دے رہے ہیں ۔اس کے ساتھ ساتھ کئ کالجز اور یونیورسٹیز کے سکینڈلز بھی سامنے آتے ہیں ۔وہ بھی اتنی ہی بڑی برائی ہے اور ایسے اساتذہ کو قرار واقعی سزا بھی ملی چاہیے ،قارئین! مدارس چونکہ ہماری دینی درس گاہیں ہیں تو دنیاوی اداروں کی بہ نسبت ہماری توقعات ان سے زیادہ ہوتی ہیں کہ یہ دنیاوی حرص و ہوس کی نسبت اعلی اخلاقی اوصاف سے متصف ہوں گے ، مگر جب ایسے اخلاق رذیلہ سامنے آتے ہیں تو یہی کہا جا سکتا ہے ۔پال نہیں سکتے تو پیدا کیوں کرتے ہو۔ ۔ ۔ ۔؟اللہ پاک کے آگے جواب دہ والدین نے ہونا یے ۔




