
گجرات – اولیاء کرام و صوفیاء عظام کی سر زمین تاریخی جغرافیائی اعتبار سے راہ محبت میں بے دریغ قربانی دینے اور بلند و بالا حوصلوں کے حامل شہداء نشان حیدر کا شہر ہے “خبردار کوئی میرے شہر کو آفت زدہ نہ کہے”گجرات کو حالیہ سیلاب کی وجہ سے کچھ لوگ آفت زدہ شہر قرار دے رہے ہیں، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ گجرات صدیوں سے تہذیب و ثقافت کا امین ہے اور اس سرزمین نے ہمیشہ مشکل حالات کا مقابلہ صبر و استقلال اور حوصلے سے کیا ہے۔یہ وہ شہر ہے جہاں کے لوگ محبت بانٹنے والے، مہمان نواز اور دل کے سچے ہیں۔ گجرات صرف اینٹوں اور پتھروں کا نام نہیں بلکہ یہ شہر اس کے باسیوں کے اخلاص، محنت اور قربانیوں سے زندہ ہے۔ جو شہر محبت میں پلنے والے رشتوں اور قربانی دینے والے انسانوں سے آباد ہو، وہ کبھی آفت زدہ نہیں کہلا سکتا۔آج سیلاب کی وجہ سے وقتی طور پر اس کے چہرے پر کرب کے آثار دکھائی دے رہے ہیں لیکن مجھے کامل یقین ہے کہ ان شآء اللہ تعالیٰ گجرات کے باسیوں کا عزم اور اتحاد اس اندھیرے کو مٹا دے گا۔ یہاں کی گلیاں پھر سے آباد ہوں گی، بازاروں میں رونقیں لوٹ آئیں گی اور معصوم ننھے بچے اپنی مسکراہٹوں سے شہر کو جگمگائیں گے۔ پختہ عزم کے ساتھ گجرات کو پھر سے ایک جدید اور محفوظ شہر بنایا جاۓ گا – اس سرزمین پر اندھیروں کی نہیں بلکہ روشنیوں کی حکمرانی ہو گی۔ گجرات کو آفت زدہ کہنا اس کے باسیوں کی قربانیوں اور محبتوں کی توہین ہے۔ یہ شہر کبھی اجڑا ہے نہ اجڑے گا۔گجرات زندہ دلوں کا شہر ہے، اور آنے والے دنوں میں یہ پہلے سے زیادہ مضبوطی اور خوبصورتی سے دنیا ابھرے گا۔ گجرات کی دھرتی نے ایسے ہیرے پیدا کیے ہیں جنہوں نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں اپنا لوہا منوایا ہے بلکہ دشمنان اسلام و پاکستان کا جرات و بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا اور انہیں پاکستان کے سب سے بڑے اعزاز نشان حیدر سے نوازا گیا ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ گجرات سمیت پاکستان بھر میں جہاں بھی سیلاب و قدرتی آفات نے تباہی مچائی ہے سب پر اپنا خاص رحم و کرم فرمائیں اور سب کیلئے آسانیاں پیدا فرمائیں آمین ۔ دشمن پاکستان خوب جان لے کہ جو بھی پاکستان کی جانب میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرأت کرے گا وہ نیست و نابود ہو جائے گا ۔ان شآء اللہ تعالیٰ ۔




