
naziaasifadv20@gmail.com نازیہ آصف
” تیری سرحدیں نیل سے لے کر فرات تک ہیں” ۔” ہماری حکومت قائم ہونے کے وقت ہمارے مذہب کے علاوہ کسی اور مذہب کا قائم رہنا مناسب نہیں۔ ضروری ہے کہ ہر قسم کے ایمانیات و اعتقادات کا خاتمہ کر دیا جائے ۔” ” ہم اعلی ترین نسل اور خدا کے بنائے ہوئے بندے ہیں اس لیے ہم تبلیغ بھی نہیں کرتے کہ کیسے ہم دوسرے عام انسانوں کو اپنے اندر شامل کر لیں ” (یہودی پروٹوکولز) ان کے پروٹوکولز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ساری دنیا ہمارے آگے ہیچ ہو گی ، ہم قتل عام کرائیں گے ، کسی کو معاف نہیں کیا جائے گا بلکہ یہاں تک کہا گیا ہے کہ دنیا کی ہر لڑکی ہماری ہو گی ۔یہ ہے وہ بنیادی سوچ اور ایمانیات و اعتقادات ، جن پہ اسرائیلی خارجہ پالیسی بیس کرتی ہے۔یہ محض سوچ نہیں بلکہ عقیدہ ہے دنیا بھر میں اسلام اور مسلمانوں کو تشدد پسند اور انتہا پسند کہنے والوں کی اپنی سوچ اس قدر فاشسٹ ہے کہ وہ کسی دوسرے مذہب تو کیا انسان کو بھی زندہ رہنے کا حق دینے کے لیے تیار نہیں ، اور ایسا ایمان رکھنے والوں سے امن یا دوستی کی باتیں کرنا احمقوں کی جنت میں رہنا ہےحالیہ قطر پر ہونے والے اسرائیلی حملے کے بعد سعودی عرب قطر یو اے ای جیسے ممالک کو یہ باور کر لینا چاہیے ک بزدل کو دنیا میں جینے کا کوئ حق نہیں۔ حیرت ہے کہ” مشرق وسطی کے یہ ممالک اسلامی سربراہی کانفرنس لاہور کے شاملین کو کیوں بھول جاتے ہیں، جب پہلی بار انھیں تیل کو بلیک ڈائمنڈ ہونے کا احساس دلا کر ایک پلیٹ فارم پہ جمع کرنے والوں کو، ایک سال کے اندر اندر نشان عبرت بنا دیا گیا تھا۔ یہودی پروٹوکولز کے مطابق گریٹر اسرائیل کے نقشے میں وادی نیل سے دریائے فرات ، لبنان شام، اردن ،سعودی عرب (شمالی حصہ)، اور کچھ حصہ مصر کا بھی شامل ہے ۔اس کے باوجود قطر کا امریکہ کو سالوں سے ائیر بیسز دینا ، عالمی ثالثی کے لیے ٹیبل پیش کرنا ، بلین ڈالرز کی امریکہ میں سرمایہ کاری کرنا مزید یہ کہ ایک اعشاریہ سات ٹریلینز ڈالر کی انویسٹمنٹ کا وعدہ بھی کرنا خود کنویں میں چھلانگ لگانے کے مترادف ہے۔امریکہ ایک ہفتے میں تین بار دمشق پہ حملے کرتا ہے، ساتھ ہی لبنان پہ فضائی بمباری کر کے ان کے شہریوں کو ہلاک کرتا ہے۔ یمن اور غزہ تو پہلے ہی مٹی کا ڈھیر بنائے جا چکے ہیں ۔شام کے متعدد حصے بخرے کر کے انھیں سنی شیعہ مسائل میں الجھا کر جہنم میں دھکیل چکا ہے ۔تیونس کے ساحل پہ فلوٹیلا کی کشتی پہ ڈرون حملے کے جواب میں تیونس صفائیاں پیش کر رہا یے کہ حملہ ہوا ہی نہیں جبکہ حملہ کرنے والا کوئ صفائ یا دلیل بھی پیش نہیں کر رہا ۔اس سارے پس منظر میں اس جنگلی بھینسے کی بدمستیاں یہاں تک آن پہنچی ہیں کہ وہ ترکی کو بھی دھمکیاں لگا رہا ہے یاد رہے اس کے پیچھے وہی عقیدہ ہے کہ ہم کسی کو زندہ نہیں چھوڑیں گے کسی کو معاف نہیں کریں گے ۔دراصل یہودیت کی نظر میں گریٹر اسرائیل کی راہ میں حائل ہونے والی ہر سرحد ہر ملک دہشت گرد یے۔ یہی وجہ ہے کہ جب تک ان کا گریٹر اسرائیل کا منصوبہ پایہ تکمیل کو نہیں پہنچ جاتا وہ اپنے ملک کی کسی قسم کی حد بندی کے لیے بھی تیار نہیں ۔خود کو اللہ پاک کے چہیتے سمجھنے والے بنی اسرائیل نے جو ایران کے ساتھ کیا وہ بھی ناقابل بیان ہے ۔قطر جو دنیا کی امیر ترین ریاست ہے ۔تیل کے بعد دنیا میں گیس کا تیسرا بڑا ذخیرہ بھی قطر کی ملکیت میں ہے ۔اس سب کے باوجود آج قطر کی بے بسی دیکھنے والی ہے ۔وہ اپنے ہی ملک میں محفوظ نہیں ۔اس کے محافظ اسی سے بھتہ بھی وصول کر رہے ہیں اور گردن بھی دبوچ رہے ہیں ۔ان کے پڑوس میں ایران پہ کارپٹ بمباری کی گئ ، غزہ کو ملیا میٹ کر دیا گیا مگر سعودی عرب اور یواے ای جیسے ممالک نے اپنے آقا کی خوشی کی خاطر اف تک نہ کیا اور بے یارو مددگار فلسطینیوں کو ذبح ہوتے دیکھتے رہے ۔وقت یے کہ آنکھیں کھول لی جائیں پہلے اسرائیل نے ایران کو مذاکرات میں الجھایا پھر حملہ کر دیا۔ بالکل یہی ٹیکنک حالیہ قطر میں بھی کھیلی ہے ، یہود ازل سے مکار ہیں ان کی مکاری سمجھ لیجیے کہ حالیہ قطر میں بھی مذاکرات کی ٹیبل پہ حملہ کیا گیا ہے۔اب صورتحال یہ ہے کہ امریکی اسرائیل گٹھ جوڑ مشرق وسطی کے ان بچے کھچے ممالک کی گردن تک پہنچ چکا ہے ۔قصاب کی چھری کا اگلا وار ان پہ ہونے والا ہے ۔اب بھی اگر یہ ملک خاموش تماشائی بنے دیکھتے رہتے ہیں تو یقین مانیے یہ شتر مرغ کے ریت میں سر دینے کے علاوہ کچھ نہیں ہو گا اور گریٹر اسرائیل کا منصوبہ بہت جلد ہماری آنکھوں کے سامنے پایہ تکمیل تک پہنچنے والا ہے ۔ان حالات میں پاکستان سمجھتا ہے کہ عرب سرزمین پہ ایک اور” متحدہ عرب جمہوریہ ” جیسے پلیٹ فارم کا قیام ناگزیر ہے ۔اسیے اس نے قطر کے ساتھ ہمدردی اور اتحاد کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل کے خلاف ہونے والے کسی بھی ایونٹ کی میزبانی میں شراکت کی پیشکش بھی کی ہے ۔کیونکہ یہ بھی کھلا سچ ہے کہ پاکستان جیسی اسلامی ایٹمی ریاست بھی یہودیت کی آنکھ میں کھٹک رہی ہے ۔پاکستان کے لیے ان عرب ممالک کے ساتھ کھڑا ہونا ضروری ہے مگر اس کے لیے پہلے قطر کا خود پاؤں پہ کھڑے ہونا بھی ضروری یے ۔




