




چند ماہ پہلے اخبار میں ایک خبر پڑھی کہ “ایک اندازے کے مطابق پاکستانیوں نے پچھلے ایک سال میں اندازاً چار ارب روپے سے زائد کے رائزک کیپسولز کھا لیے ہیں “۔افسوس یہ کوئ عام خبر نہیں، ہماری خوراک اور طرز زندگی کا آئینہ ہے۔ یہ رپورٹ ہمیں اپنے طرز زندگی پہ غوروفکر کی دعوت دیتی ہے۔رائزک ایک دوا ہے جو خوراک کی نالی اور معدے سے متعلقہ مسائل جیسے تیزابیت ، جلن ، معدے کا السر وغیرہ کے وقتی حل کے لیے کھائی جاتی ہے۔ دیکھا جائے تو معدے کی جلن یا تیزابیت وغیرہ کوئی خاص ایسی بیماریاں نہیں کہ جن کے لیے دوا کھائی جائے ، یہ وہ معدے کے مسائل ہیں جو ہمارے روزمرہ کے کھانے اور طرز زندگی کی عکاسی کرتے ہیں ۔ معدے میں جلن کیوں پیدا ہوتی ہے ۔آسان الفاظ میں سمجھ لیجیے کہ ہم جو خوراک کھاتے ہیں وہ خوراک کی نالی کے زریعے ہمارے معدے تک پہنچتی ہے معدے میں اللہ پاک نے ایک انتہائ طاقتور تیزاب ہائیڈروکلورک ایسڈ پیدا کیا ہے جو دو سرے کیمیکلز کے ساتھ مل کر خوراک کو ہضم کر کے جزو بدن بنانے کے کام آتا ہے۔ لیکن اگر خوراک مناسب طریقے سے ہضم نہ ہو رہی ہو تو ہمیں سینے میں گرانی جلن اور تیزابیت محسوس ہوتی ہے اور ہم بنا سوچے سمجھے دوائیوں کی طرف لپکتے ہیں ۔ ویسے تو تیزابیت اور جلن کا پہلا تعلق ہماری خوراک سے ہے کہ ہم کیا کھا رہے ہیں اور کتنا کھا رہے ہیں ۔ پانی کتنا پیتے ہیں ، دوسرے غذائی اجزاء کی ہماری خوراک میں مقدار کیا ہے۔ ہمارا سوچنے سمجھنے کا انداز کیا یے وغیرہ وغیرہ۔ بہت زیادہ مرغن، تیل یا تلی ہوئی چیزیں ، چھنی ہوئی چیزیں ، پانی کی کمی، جنک فوڈز، فروزن فوڈز اس کی سب سے بڑی وجہ ہیں ۔ یاد رکھیے ، انسان کا معدہ ٹیوب ویل کا وہ حوض ہے جو سارے کھیتوں کو سیراب کرتا ہے۔ آپ جو کھاد ، جو زہر اس حوض میں ملا دیں گے وہی سارے کھیتوں اور ساری فصلوں میں جائے گا اور اگر آپ اس حوض کو لبالب بھر دینگے تو پھر یہ چھلکتا رہے گا یعنی وہی فائدہ مند تیزاب جو خوراک کو ہضم کرتا ہے زیادہ کھا لینے کی صورت میں وہ خوراک کی نالی میں جا کر تیزابیت پیدا کرے گا اور جلن محسوس ہو گی ۔یہ اللہ پاک کی قدرت ہے کہ یہ تیزاب معدے میں رہے تو خوراک کے انہظام کا سلسلہ چلتا ہے اور اگر وہی تیزاب خوراک کی نالی میں آ جائے تو انسان کا گلا، آواز، نظام انہظام بلکہ پورا جسم متاثر ہو سکتا ہے ۔ ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تقریباً چودہ سو سال پہلے ہی یہ حقیقت آ شکار کر دی تھی کہ “ہمیشہ تھوڑی بھوک رکھ کر کھانا کھاؤ” آپ نے ہمیشہ بنا چھنے آٹے کی روٹی کھائی ۔ ہم چھنے ہوئے سفید آٹے کو جب استعمال میں لاتے ہیں یا پھلوں کی بجائے جوس کو ترجیح دیتے ہیں تو اپنی خوراک سے فائبر نکال باہر کرتے ہیں جس سے خوراک کا ہضم ہونا خاصا مشکل ہو جاتا ہے ۔ تیزابیت کی ایک اہم وجہ پانی کا بہت کم پینا بھی ہے خوراک کو ہضم ہونے کے لیے پانی کی ضرورت ہوتی ہے جس کے لیے ہمیں آٹھ سے دس گلاس پانی کم سے کم لازمی پینا چاہیے ۔دہی کا استعمال معدے کو تقویت دیتا ہے ،روزانہ ناشتے میں ایک پیالہ دہی ہمارے معدے کی عمر بڑھاتا ہے۔انسان پہ دوسرے فرائض کے ساتھ ساتھ اس کے جسم کے چند حقوق ادا کرنے بھی لازم ہیں، جن میں پہلا حق یہی ہے کہ مضر صحت امور سے اجتناب کرے اور اپنی جان ، صحت کی حفاظت کرے۔قارئین قابل غور بات ہے کہ ہم جلن یا تیزابیت کی صورت میں دوائیوں کی طرف ہی کیوں جاتے ہیں جبکہ ہم اپنے طرز زندگی میں تبدیلی لا کر اس سے بچ سکتے ہیں۔ چار ارب روپیہ ہم ایک معدے کی بیماری پہ خرچ کرنے کی بجائے ڈائریکٹ اپنی صحت پر بھی خرچ کرسکتے ہیں ۔ رائزک کیپسولز سے متعلق یہ رپورٹ ہماری سوچ، عادات اور اعتقادات کی بھی عکاسی کرتی ہے۔غصہ، انتشار ، حسد اور منفی سوچ سب سے پہلے معدے پہ اثر انداز ہوتی ہے۔ جس سے ایسے ہارمونز پیدا ہوتے ہیں جو خوراک کو زہریلا کر دیتے ہیں۔ رفتہ رفتہ یہ زہر ہمارے دل و دماغ سے ہوتا ہوا پورے جسم کو بیمار بناتا ہے اور اگر اس زہر پہ قابو نہ پایا جائے تو یہ بڑھ کر پورے معاشرے کو بھی زہریلا بنا دیتا ہے۔ ایک عمومی جائزے کے مطابق سب سے زیادہ مرچ مصالحے اور تڑکے لگے کھانے برصغیر پاک و ہند میں کھائے جاتے ہیں۔ہم بحیثیت قوم ہمیشہ کھانے کے معیار کی بجائے کھانے کی مقدار اور زبان کے چٹخارے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ شادی بیاہ و دیگر تقریبات پہ کھانے کو ہم اپنا ہمیشہ آخری کھانا سمجھ کر کھاتے ہیں ۔بحثیت مسلمان ہمارا عقیدہ اللہ پاک کی ذات پہ مضبوط ہونا چاہیے، لازم ہے کہ ریشہ دوانیوں سے پرہیز کر کے آنے والے کل کا سوچ کر خواہ مخواہ خود کو ہلکان نہ کیا جائے۔ سبزیاں پہلے تو ہم کھاتے ہی نہیں اور اگر کھائیں بھی تو ان پہ کیمیکلز کے اثرات اتنے ہیں کہ شائد ہی وہ ہم ختم کر پاتے ہوں ۔ معاشرے سے اس اجتماعی جلن ، تیزابیت اور حسد کے خاتمے کے لیے اس کا مناسب نکاس ہونا ضروری ہے اور اس کا بہترین طریقہ معیاری و مثبت سرگرمیاں ہیں ۔انسانی وجود میں موجود اتنے سارے جوڑ اس بات کا مظہر ہیں کہ اسے حرکت میں رکھا جائے ، چہل قدمی کی عادت اپنائی جائے، ورزش کی جائے، پیدل چلنے کی عادت کو ترجیح دی جائے، سوشل ویلفیئر میں حصہ لیا جائے، تو صحت کے ان مسائل سے بخوبی بچا جا سکتا ہے ۔ہمارے ہاں چھوٹے شہروں میں کھیل کے میدان، پارکس وغیرہ تو نہ ہونے کے برابر ہیں اور اگر ہیں بھی تو ان میں ورزش یا واک کے لیے بھی وہی جاتے ہیں جنھیں ڈاکٹرز یا صحت نے ڈرا دیا ہو ، ویسے کوئی گھر سے نکلنے کو تیار نہیں ۔ اس کے علاوہ رائزک کے پھیلاؤ میں ایک بڑا ہاتھ فارما سیوٹیکل کمپنیز اور ڈاکٹروں کی ملی بھگت کا بھی ہے ، جو مریض کو ایسی ٹپس دینے کی بجائے دوائیوں کا عادی بنا رہے ہیں ۔یہ وقت ہے کہ اپنے معمولات پہ غور کریں۔ اپنے طرز زندگی میں تبدیلی لائیں اور فوری اس پہ عمل بھی کریں۔ کم کھائیں ،۔ اچھا کھائیں ،۔ اور پھر اس کو ہضم کرنے کے لیے کچھ حرکت اپنے جسم کو بھی دیں۔ اگر ہم معدے کو لبالب بھر کر بیٹھ یا لیٹ جائیں گے تو وہ چھلکے گا، تیزابیت ہو گی ۔سنت رسول (صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم) ہے کہ ” لیٹتے وقت دائیاں پہلو نیچے کر کے لیٹو “تو اس میں دوسری کئ مصلحتوں کے ساتھ ایک یہ بھی ہے کہ معدہ خوراک کی نالی سے نیچے رہتا ہے اور تیزابیت نہیں ہوتی ۔اگر ہم نے خود کو نہیں بدلا تو بہت جلد رائزک کی مقدار و تعداد دگنی ہونے میں دیر نہیں لگے گی اور بلاشبہ اس کے ساتھ ساتھ دوسرے جسمانی عوارض جیسے دل دماغ، شوگر ، یرقان، گنٹھیا وغیرہ وغیرہ بھی اسی رفتار سے بڑھتے جائیں گے ۔ یاد رکھیے رائزک صرف ایک وقت تک ہی حل ہے اس کے بعد رائیزک بھی کارآمد نہیں ہو گا ۔
جہاں تک کام چلتا ہو غذا سے
وہاں تک چاہیے بچنا دوا سے






