تازہ ترین

کلچر ، خوف اور جرم ؛ تحریر ۔ ۔ ۔ نازیہ آصف

کلچر انگریزی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب عموما تہذیب و ثقافت لیا جاتا ہے۔
تہذیب و ثقافت اپنے اندر بہت وسعت رکھتے ہیں ۔ جن میں کسی خطے کے باسیوں کے عقائد و نظریات، روایات اور رسوم و رواج وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔
کلچر کی ابتدا کہاں سے ہوتی یے ، اسے بنیاد کون فراہم کرتا ہے؟
کلچر یعنی تہذیب و ثقافت کی بنیاد چند چیزوں پہ رکھی جاتی ہے ۔جن میں سب سے پہلی چیز مذہب ہے ۔دنیا میں جتنے زیادہ مذاہب ہوں گے اسی قدر کلچر بھی پروان چڑھیں گے بلکہ ہر کلچر کی کئ ذیلی شاخیں بھی نمو پائیں گی۔ ہر مذہب کے کچھ اپنے تقاضے ہوتے ہیں۔ اور انہی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کلچر بھی فروغ پاتا ہے اگر ہم انسانی تاریخ پہ غور کریں تو ہر دور میں انسان کی زندگی میں مذہب کو بنیادی حیثیت حاصل رہی ہے ۔ اس کے نظریات ،رویے ، مقاصد ،ضروریات ،سب مذہب کے تابع رہے ہیں۔ بھوک، افلاس، خوف اور جنگ میں مذہب انسان کی سب سے بڑی ڈھال رہا ہے ۔
” عیدین” ہمارے دین کا حصہ اور رب تعالی کی عطا ہیں مگر نماز عید کے بعد ہر خطے میں عید منانے کا انداز اپنا اپنا ہے ،اسی کا نام کلچر یعنی تہذیب و ثقافت ہے۔ ہر مذہب بذات خود انسانی زندگی کے لیے راہیں متعین کرتا ہے ۔چونکہ یہاں مذہب ہمارا موضوع نہیں ہے تو ہم اسے مختصر کرتے ہیں۔
اگر ہم اپنے کلچر یعنی پاکستانی کلچر کی بات کریں تو ہمارا کلچر آدھا تیتر آدھا بٹیر ہے۔ صدیوں ہندو عیسائی مذہب کے ساتھ رہنے سے بہت سی رسوم ، رواج و نظریات بلکہ توہمات بھی انھی مذاہب سے ہم نے مستعار لی ہوئی ہیں ۔ یعنی ہم نے جو چیز جہاں سے اچھی لگی وہیں سے اٹھا لی ہے۔ تو ہمارا معاشرہ بھی ست رنگا ہو چکا ہے یا یوں کہہ لیں کہ ہم متضاد رویوں کا شکار ہو چکے ہیں ، اور یہی چیز ہمارے معاشرے کو مکمل طور پہ قانون قدرت کے تابع نہیں ہونے دے رہی ہے ۔
جیسے کہ ہمیں نکاح کی سنت رسول( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) بھی پوری کرنی ہے اور ہندوانہ کلچر کا ناچ گانا بھی لازمی کرنا ہے۔ دوسری طرف ہم نے چار شادیاں جائز بھی قرار دینی ہیں اور کسی چار بچوں والی بیوہ سے نکاح بھی نہیں کرنا۔ ہم نے ہر نماز کے بعد یہود و ہنود کی تباہی و بربادی کی دعائیں بھی کرنی ہیں اور انہی کے ویزے کے حصول کے لیے گھر بیچنے سے بھی گریز نہیں کرنا ،کوئی مر جائے تو اس کے کفن دفن اور قل و ختم پہ بھی ہم نے بریانی و زردے کھائے بغیر واپس نہیں آنا، ہماری یہ بری عادات جو کہ پہلے رسوم و رواج اور پھر بڑھتے بڑھتے اب دینی حصہ کا درجہ پا چکی ہیں اور ان سے چھٹکارہ پانا ناممکن حد تک مشکل ہو چکا ہے ۔
سادگی و صفائی اللہ پاک کو بہت پسند ہے بلکہ صفائی کو تو نصف ایمان کا درجہ حاصل ہے ۔مگر اپنے گھر کا کوڑا دروازے پہ یا گھر کے پاس نالی میں پھینک دینا کثیر تعداد کی بری عادت ہے ۔ ہمارے معاشرے میں بسنے والے اپنے ہاتھ سے ایک تنکا بھی اٹھانے کو تیار نہیں ۔اسراف نمود و نمائش کرنے والے شیطان کے ساتھی ہیں مگر ہم یہ سب کیے بغیر رہ بھی نہیں سکتے ۔بچے کی پیدائش سے لیکر اس کی شادی تک بےشمار فضولیات ہم نے متبرک سمجھ کر نہ صرف اپنائی ہوئی ہیں بلکہ اس طرح سے ہمارے اندر سرایت کر چکی ہیں کہ اگر کوئی ان سے نجات پانا چاہے بھی تو ناممکن حد تک مشکل ہے ۔ ہمارے یہی متضاد رویے ہمیں تباہی کیطرف لے جا رہے ہیں ۔ اللہ پاک اپنے پاک کلام قرآن کریم میں فرماتے ہیں ترجمہ مفہوم ” رزق حلال کمانے والا اللہ پاک کا دوست ہے “جبکہ ہمارے معاشرے میں ہاتھ سے کام کرکے رزق حلال کمانے والے کو کمتر ترین خیال کیا جاتا ہے۔ ہمارا معاشرہ یا انسان شائد جبلی طور پہ ہی طاقت کو پسند کرتا ہے اسی لیے ہر انسان طاقتور بننا چاہتا ہے۔ صاحب بن کر سب کو اپنے سامنے ہاتھ باندھے دیکھنا چاہتا ہے کیونکہ یہ بات ہمارے اذہان میں سرایت کر چکی ہے کہ طاقتور کو عزت اور کمزور کو حقیر سمجھنا ہمارے معاشرے کا انتہائی اہم جز بن چکا ہے ۔
تعلیم مرد وعورت سب پہ یکساں فرض ہے ۔تربیت و تعلیم میں بیٹے بیٹی کی کوئی تخصیص نہیں مگر ہم نے کچھ ایسی رسومات اپنا لی ہیں کہ بیٹی کو ہم اس کا حق دے کر ہی راضی نہیں ۔ اللہ پاک نے بیٹی کو وراثت میں حقدار بنایا ،مگر ہم نے عزت کا ذمہ دار اسے اور وراثت میں مال و دولت کا مالک بیٹے کو بنا دیا ۔اب یہی ہمارا کلچر یے ۔بیٹی کو پسند کا نکاح کرنے کی اجازت اسلام نے دی ہے مگر افسوس کہ جسے وہ پسند کرے اسے جان سے مارنے سے بھی گریز نہیں کرتے یا کسی ایسے بندے کے پلے باندھ دیتے ہیں جو ساری زندگی اسے اسی کے نام کے کچوکے لگا لگا کر مار دیتا یے۔ یہ ہماری اسلامی تعلیمات ہرگز نہیں بلکہ محض کلچر کا حصہ یے۔
ان خرافات کی اس قدر پابندی کیوں۔ ۔ ۔ ۔ ؟
دراصل یہ کلچر نہیں ، بلکہ مذہب بھی نہیں ، ہمارے اندر کا خوف ہے، کیونکہ رسم و رواج یا کلچر کی تیسری بنیاد جس ستون پہ رکھی جاتی ہے وہ ہمارے اندر کا خوف بھی یے ۔
تاریخ میں تھوڑا سا پیچھے جائیں،تو ہم دیکھتے ہیں کہ تاریخ میں ممکنہ آفات سے بچنے کے لیے انسانوں کو دیوتاؤں کی بھینٹ چڑھایا جاتا ، خوراک کی کمی کے خوف سے کسی دوشیزہ کو دریائے نیل کی خوراک بھی بنایا جاتا، اپنی حاجات کے پورا ہونے کے لیے کثیر مقدار میں اناج غلہ بھی دیوتاؤں کی نذر کیا جاتا ،بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا ،ان سب عوامل کے پیچھے خوف تھا کہیں جان کہیں مال تو کہیں عزت و آبرو پہ حرف آنے کا خوف۔اور انھی مختلف اقسام کے خوف سے بچنے کے لیے یہ رسمیں وجود میں آتی گئیں ۔جو آگے چل کر اتنی مضبوط ہوتی گئیں کہ باقاعدہ کلچر کی شکل اختیار کر گئیں ۔
رسم و رواج کا دوسرا بڑا منبع کسی علاقے کے مقامی موسم اور ان کی شدت بھی ہوتی ہے جیسے ہمارے خطے میں شدید سردی کے بعد موسم بہار وارد ہوتا ہے تو کچھ رسوم و رواج اس کی رنگینیوں کو دوبالا کرنے کیلئے بھی منائے جاتے ہیں ۔ اسی طرح کچھ تہوار برسات سے وابستہ ہیں ۔یہی رسوم و رواج آگے چل کر باقاعدہ کلچر کی شکل اختیار کر جاتے ہیں ۔
مگر اس سارے قضئیے میں جرم کہاں ہے ،جرم کا کلچر سے کیا تعلق ہے ؟
کلچر اور جرم ۔
کلچر اور جرم کا ہمیشہ سے چولی دامن کا ساتھ رہا ہے۔ جو ہمیشہ ساتھ ساتھ چلتے ہیں ۔کلچر اپنی چولی میں ہی جرم کی پرورش بھی کرتا ہے ۔بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ کچھ رسوم تو بذات خود جرم ہوتی ہیں ۔ مگر چونکہ وہ ہمارے کلچر کا حصہ بن کر معتبر ہو چکی ہوتی ہیں تو ہم انھیں جرم ماننے کو ہی تیار نہیں ہوتے ۔ مثلاً کسی بچی کی شادی پہ ڈھیر سارا جہیز دینا یا مانگنا ، لاکھوں روپے یا سینکڑوں تولے سونا حق مہر کی صورت لکھوانا بھی ایک رسم اور ہمارے کلچر کا حصہ یے ۔جو کہ سراسر زیادتی اور جرم ہے ۔ مگر اس پہ کوئی نہی بولے گا کیونکہ ہم نے اسے بھی کلچر کا حصہ بنا لیا ہے۔ دلہن کا شادی کے بعد الگ رہنے کا مطالبہ بھی اس کا حق یے مگر ہوتا کیا ہے وہ چولھا پھٹنے سے مر سکتی ہے کیونکہ یہی مطالبہ اس کا جرم بن جاتا ہے ۔
بدقستمی سے ہمارا معاشرہ دو حصوں میں بٹ چکا ہے ۔امیر امیر تر ہوتا جا رہا اور غریب غربت کی دلدل میں پھنستا جا رہا یے ۔امیر کو اہنی دولت خرچ کرنے کے لیے موقع کی تلاش ہوتی ہے وہ نت نئے ریت رواجوں کو فروغ دیتا ہے ، دولت کی نمائش کرتا ہے ۔جس کی تائید میں غریب اپنا منہ چپیڑوں سے لال کرنے کی تگ و دو میں لگ جاتا ہے ۔ یہیں سے جرائم کے اکھوے پھوٹتے ہیں ۔
رہی بات قانون کی ، تو اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات مہیا کرتا ہے ۔اسلامک لاء کی جزیات تو دنیا بھر میں نافذ ہیں ۔بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں قانون تو ہے مگر عمل ندارد ہے ۔ معاشرہ غربت میں زندہ رہ سکتا ہے مگر ناانصافی میں نہیں ۔جن اقوام نے معاشرے میں عدل و انصاف کی مکمل فراہمی ممکن بنائی ، وہ ترقی کر رہی ہیں،مگر ہم جیسے لوگ ہر دوسرے دن نظریہ ضرورت کے تحت قانون بدل دیتے ہیں خود کو نہیں بدلتے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں آج بھی قانون امیر کے گھر کی لونڈی ہے اور غریب کے لیے انتہائی سخت چیز ہے ۔ ہم حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا یہ زریں قول بھول چکے ہیں کہ ” قومیں غربت میں تو زندہ رہ سکتی ہیں مگر ناانصافی اور ظلم وستم میں نہیں “۔
اللہ پاک ہمیں اپنے دین اور سچی روایات کی پاسداری نصیب فرمائے آمین ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

*

This will close in 45 seconds

This will close in 38 seconds

This will close in 30 seconds

This will close in 20 seconds