




بہار رت پنجاب کا فصل گل و رعنائی کا ہوتا تھا۔ جب جاڑے کی سخت سردی اور طویل جھڑیاں اختتام کو پہنچتیں، دھوپ کا رنگ سنہری ہونے لگتا سوئے ہوئے پیڑ پودے انگڑائیاں لینے لگتے اور ان پہ نھنے نھنے شگوفے نمودار ہونے لگتے، چڑیوں اور پرندوں کے جوڑے ادھر ادھر چہچہاتے اور پھدکتے نظر آتے ۔ آسمان پہ نیلی، پیلی، سرخ پتنگیں لہرانے لگتیں اور بوکاٹا کے شور کے ساتھ کئ دلوں کی دھڑکنیں بھی تیز ہو جاتیں ، کھابے بنتے ، ضیافتیں اڑائی جاتیں ۔ سرما کے بھاری بستر سنبھال دیے جاتے، ان کی جگہ دیسی کپاس سے جولاہے کی کھڈی پہ تیار کیے گئے سرخ و سبز کناریوں والے دیسی کھیس بہت بھلے لگتے، جن میں ہماری نانیوں دادیوں کی محنت کی خوشبو بھی بسی ہوتی ۔ کچے صحنوں کی کیاریوں میں لگے گلاب مہکنے لگتے۔ درختوں پہ پھل پکنے لگتے، بیری کے سبز پتوں میں سرخ بیر چھب دکھانے لگتے، آم کے درختوں پہ بور آنے لگتا اور دھڑکتے دلوں کی امنگیں جوان ہونے لگتیں ۔ سرما سے بہار اور پھر گرما میں یہ تبدیلی بڑے دھیرے دھیرے اور خاموشی سے ہوتی۔ یہ تغیر اتنا آہستہ سے ہوتا کہ جسم موسموں کے اس بدلاو کا بغیر کسی تکلیف کے عادی ہو جاتا۔چند سال پہلے کی بات کروں تو ہمارے دیہاتوں میں رہنے والے بھائ بندوں کے گھر بہت وسیع ہوتے ، عموما ان کا طرز تعمیر ایک سا ہی ہوتا ، جیسے کہ ایک دیوار کے ساتھ تین یا چار کمرے ، آگے برآمدہ اور پھر اس سے آگے ایک وسیع صحن ہوتا، آج کی طرح چاروں طرف سے مکمل بند گھر نہیں ہوتے تھے ۔کھلے آنگنوں میں کہیں بیری، کہیں دھریک ، کیکر جامن امرود، لیموں یا پھر آم کے درخت ہوتے ۔ہمارے یہ کچے صحن اور ان میں لگے درخت اللہ پاک کی وہ بڑی نعمت تھے جن سے ہم نے اپنے ہاتھوں اپنی آنے والی نسلوں کو محروم کر دیا یے ۔کچے آنگنوں میں لگا ایک بھی سایہ دار و پھلدار درخت ایک فیملی کے لیے کافی پھل مہیا کر سکتا ہے۔ گھر میں اگر پھلدار درخت ہو تو ہمارے پنجاب کی سوہنی روایت کے مطابق کسی دھی بہن کو گھر سے خالی ہاتھ رخصت نہیں ہونے دیتا، پھل کی سوغات دے دی جاتی تھی، اس کے علاوہ رشتہ داروں ، ہمسائیوں کے گھر بھی پہنچایا جاتا تھا۔کچے صحن رحمت ہوتے ہیں اور کچی زمیں رزق دیتی ہے۔ مگر پھر ہم امیر ہوتے گئے ، ہمارے دیہاتوں میں بھی یورپ کا پیسہ آنے لگا چاہے وہ بیٹوں کے ڈنکی لگانے سے ہی سہی ، ہم نے فورا سے پیشتر اپنی ضروریات، ماحول اور اپنے موسم کے مطابق بنے گھروں کو گرا کر جدید طرز کو اپنا لیا جس نے سب سے پہلے ہمارے گھروں سے ان وسیع آنگنوں کو ختم کیا، جو ٹکرا زمین کا بچ گیا وہاں ہم سنگ مر مر لگا کر امیر ہو گئے۔ ہاں چند گھروں میں لان کے نام پہ جو قطعہ چھوڑا جاتا ہے اس میں بھی انگریزی گھاس اور چند غیر ملکی پھول لگا دیے جاتے ہیں جو ہمارے پنجاب کا سخت موسم برداشت نہیں کر پاتے اور بجائے اس کے کہ وہ ہمیں سایہ دیں ہمیں سبز شیٹیں لگا کر انھیں سایہ مہیا کرنا پڑتا ہے ۔چیز کڑوی ہے مگر دھوپ سے بچنے کے لئےنیم کا پیڑ بھی آنگن میں لگا لیتے ہیں۔شیشم ، نیم اور بکائن دھریک کے درخت جو اب ہمارے خطے سے تقریبا ناپید ہو چلے ہیں ہمارے پنجاب کے سخت موسم گرما کا بہترین توڑ تھے ۔اور تو اور ہماری سڑکوں کے دونوں اطراف ٹاہلی ،کیکر کے بہت بڑے بڑے اور قدیم درخت ہوتے تھے جن کی باقاعدہ نمبرنگ کی گئ ہوتی تھی۔ جن میں ایک فسوں تھا ایک رومانس تھا درختوں کی چھال کو کھرچ کر کئ محبت کرنے والے اپنے نام اور دل کی شکلیں بنا دیتے۔یہ درخت انتہائ بلندی پہ جا کر اوپر سے مل گئے ہوتے ، جس سے سڑکیں ٹھنڈی رہتیں اور درجہ حرارت بھی قابو میں رہتا۔پنجاب کے دیہاتی رہن سہن میں تقریبا ہر گھر کے صحن میں، انھیں درختوں کے سائے تلے ایک چھوٹا تنور لگا ہوتا جسے عرف عام میں تندوری کہا جاتا جس میں عموما چار سے آٹھ روٹیاں لگتیں۔ دوپہر کے وقت عموما ان تنوریوں پہ روٹیاں لگائ جاتیں جنھیں دیسی گھی سے چپڑا جاتا، ساتھ گڑوی میں صبح کی بنی چاٹی کی لسی ٹھنڈی کی جاتی، دیسی گھی سے چپڑی تنوری کی روٹی، اچار سلاد اور لسی کے ساتھ کھائ جاتی اور یہی ڈیروں پہ کام کرنے والوں کو بھی پہنچائ جاتی ۔ سادہ غذا اور خوب سی محنت، انسانی جسم کو کوئ درجن بھر بیماریوں سے بچائے رکھتی۔ایک گھر کی تنوری (نسبتا چھوٹا تنور) میں آگ جلتی تو آس پاس کی سکھیاں بھی اسی پہ کام چلا لیتیں ۔ دکھ سکھ سانجھے ہوتے ، انھیں درختوں کی چھاؤں میں بیٹھ کر ہنر بانٹے جاتے ، سلائ کڑھائی، کروشیہ، چار پائ بننا سکھایا جاتا۔ پھر انھیں درختوں میں سے کوئ شیشم کیکر کا درخت کاٹ کر بیٹیوں کا جہیز بھی بنا لیا جاتا۔ دھریک ، بکائن اور نیم کے درختوں کے پتوں سے موسم برسات میں بچوں بڑوں کے جسموں پہ نمودار ہونے والے کئ پھوڑے پھنسیوں کا علاج کامیابی سے کیا جاتا ، کبھی اینٹی بائیوٹکس کی ضروت محسوس نہیں کی جاتی تھی۔ املتاس کی پھلیوں کا قہوہ نزلہ زکام کھانسی میں اکسیر کا درجہ رکھتا تھا ۔ہم لوگ جب تک اپنے بزرگوں اور گھنے دیسی درختوں کی ٹھنڈی چھاؤں میں پلتے رہے ، ہماری جڑیں بھی مضبوط رہیں ۔ آجکل معمولی سی بیماری میں اینٹی بائیوٹکس کے بے تحاشا استعمال نے ہماری قوت مدافعت ہی نہیں قوت برداشت بھی بہت کم کر دی ہوئ ہے ۔ہماری پنجابی ثقافت کا نمائندہ درخت، شریہع ، بالکل اپنی معدومیت کے آخری سرے پہ ہے ۔ بہار کے دنوں میں اس کے پیلے پیلے زردانوں والے ریشم کے دھاگوں جیسے نرم پھول بہت بھینی بھینی خوشبو دیتے ۔مجھے یاد ہے کہ ہمارے پنجاب میں جب کبھی کسی نے گھر میں بیٹا پیدا ہوتا تو شریہع کے پتوں کا ایک بڑا گچھا رسی سے باندھ کر متعلقہ گھر کی چوکھٹ پہ باندھ دیا جاتا ، اسی طرح اگر کوئ نیا گھر بنانا شروع کرتا تو جب بنیادیں بنا کر دروازوں کی چوگاٹھیں لگائ جاتیں تو بھی یہی عمل دہرایا جاتا، جس کے پیچھے ایک لاجک یہ بھی ہوتی کہ آسیب یا سایہ نہیں ہوتا اور نئ چیز نظر بد سے محفوظ رہتی ہے۔ اگرچہ ان باتوں کا ہمارے دین اسلام سے کوئ تعلق نہ تھا مگر چھوٹی چھوٹی خوبصورت رسمیں تھیں۔ ہاں یہ شریہع کے پتوں کے گچھے لٹکانے والی بہنوں بھابیوں کو نیگ بھی دیا جاتا تھا جو ایک اچھا شگن تھا ۔ہمارا سکچین جو گرم علاقوں میں بوٹے قد کا درخت ہوتا تھا اور اکثر مویشیوں کے مسکن یا ڈیروں پہ پایا جاتا تھا۔ اپنی ٹھنڈے چھاؤں اور کڑوی مسواک کے لیے بہت مشہور ہوتا تھا ۔جس کے متعلق یہ روایت بھی تھی کہ سکچین (سکھ چین، شائد) کے سائے میں اگر سانپ آ جائے تو وہ اندھا ہو جاتا ہے۔پنجاب دیس کے دو اہم اور نمائندہ درخت پیپل اور برگد بھی ہیں ۔ برگد کے درخت کو صوفیا کا درخت مانا جاتا ہے کیونکہ ہر دوسری خانقاہ کے ساتھ آپ کو برگد کا درخت ضرور ملے گا جو صدیوں پرانا بھی یو سکتا ہے ۔مگر اب جبکہ زمیں کی قدر بڑھ رہی ہے تو اس درخت کو بھی معدومی کا خدشہ ہے ۔اگر برگد کا درخت خانقاہوں سے منسوب ہے تو پیپل کے درخت سے اکثر جنات کی کہانیاں منسوب کی جاتی ہیںمگر اب بقول پروین شاکر بچے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے آج کی نسل ایسی کہانیوں قصوں پہ یقین ہی نہیں رکھتی وہ ہر چیز جو ہاتھ میں لے کر پرکھنے پی ایمان رکھتی ہے ۔ یہ گھنے اور مضبوط درخت عموما عید کے دنوں میں بہنوں بیٹیوں کی پہینگوں کا مرکز ہوتے ، پٹ سن کے مضبوط ریشوں سے بنی یہ پہینگیں جب دو سہیلیاں مل کر چڑھاتیں تو درخت چاہے جتنا بھی بڑا ہو،پاوں اس کی پھنگوں کو جا کر چھوتے۔ ان درختوں کا ایک ایک پتہ دھوپ کی حرارت سے اپنے لیے خوراک بناتا ہے اور ہمیں ٹھنڈی ہوا بخشتا ہے ۔اگر یہ قیمتی نایاب درخت یوں ہی کم ہوتے گئے تو زمیں کا درجہ حرارت جو تیزی سے درجے بڑھ رہا ہے، عنقریب دنیا کئ آبادیوں سے خالی ہو جائے گی۔ ایک انتہائ اہم بات کہ یہ درخت آلودگی اور گرمی کم کرنے کے بہت بڑے عناصر تھے۔ جبکہ ان کی جگہ جو درخت لے رہے ہیں وہ آلودگی پھیلانے ، زیادہ پانی چوسنے اور انتہائ کم سایہ دار ہیں جیسے کہ مختلف اقسام کے پام ٹریز، سفیدہ، جنگلی شہتوت ، سمبل وغیرہ۔ یہ وہ وقت تھا جب سب کے ویہڑھے سانجھے ہوتے تھے۔شادی غمی کے مواقع پہ یہی صحن استعمال ہوتے تھے اور خوشی غمی سب کی سانجھی ہوتی تھی۔ میرج ہالوں کے نام سے کوئ آشنا نہیں تھا ۔ہم جب تک اپنے بزرگوں اور گھنے درختوں کی چھاؤں میں پلتے رہے ، ہماری جڑیں بھی مضبوط رہیں۔اب والدین خود درخت اور ان کی اہمیت و استعمال سے آگاہ نہیں تو وہ بچوں کو کیا تعلیم دیں گے ۔
اے بہار کے سورج بڑھا نہ قہر کے رنگ
جلا گئی ہے تیری دھوپ میرے شہر کا رنگ
قارئین بہار کا سورج کبھی جلانے والا تو نہ تھا یہ تو پھلوں پھولوں کے ساتھ امنگوں کو جوان کرنے والا تھا ۔شہروں کے رنگ جلانے والا تو ہم نے خود اسے بنا دیا ہے۔ برسات میں ہر لمحہ اگنے والی کھمبیوں کی طرح یہ ہاوسنگ سوسائٹیاں بہت جلد ہمارے لیے کنکریٹ کا قبرستان ثابت ہونے والی ہیں۔ ہم خود بنا معاوضے کے اپنے گورکن بنے ہوئے ہیں ۔عصر حاضر کا فوری تقاضا ہے کہ بڑی ہاؤسنگ سائیٹیز اور گھروں کو چھوڑ کر چھوٹے اور سرسبز گھروں کی طرف عوام کی توجہ دلائی جائے ،کنکریٹ کے بڑے گھروں میں قدرتی پتھر ، بجری ،روڑی، لکڑی اور دوسرے قدرتی ذخائر کابے تحاشا استعمال ہمیں بہت جلد بنا چھت کے صحرا میں لے آئے گا جہاں شجر سایہ تو درکنار پینے کو پانی بھی دستیاب نہیں ہو گا۔آخر میں ہمارے نامور شاعر یاسر فاروق کے دو اشعار
پرندے کوچ کب کے کر گئے
پرابھی تک یاد ہے ان کی اداسی
دم رخصت پرندوں نے یہ بولا
گرا کے شجر آنگن کا ملا کیا






