




حال ہی میں سوشل ویب سائٹس پر ایک ورسٹائل پاکستانی سینئر اداکارہ عائشہ حسین کی موت کی خبر گردش کرتی رہی۔ بتایا گیا کہ وہ اپنے ہی گھر میں ایکد ہفتے سے مردہ حالت میں پڑی رہیں اور کسی کو خبر تک نہ ہوئی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ مرحومہ کے تین بچے بھی ہیں — دو بیٹے اور ایک بیٹی۔بیٹے لاپرواہ ہو سکتے ہیں، مصروف بھی، مگر بیٹیوں کے دل تو ماں باپ کے لیے ہمیشہ دھڑکتے ہیں۔ پھر ایسا کیا ہوا کہ ایک ماں تنہائی میں مر گئی اور کسی نے پلٹ کر نہ دیکھا؟مگر یاد رکھیں، یہ صرف تصویر کا ایک رخ ہے۔ اصل کہانی کیا ہے؟ اس کے پیچھے کیا درد، کیا حالات اور کیا سچائی چھپی ہے — یہ صرف وہی جانتا ہے جس کے قبضہ قدرت میں سب کچھ ہے، یعنی اللہ۔ میڈیا کی چمکتی دنیا بظاہر بڑی سحر انگیز اور آئیڈیل لگتی ہے، مگر اندر سے یہ منافقت اور دکھوں سے بھری ہوتی ہے۔ میں خود اس کا حصہ رہی ہوں، جانتی ہوں کہ یہ چمک صرف نقاب ہے۔ اصل حقیقت میں یہاں جدوجہد اور اخلاقی گراوٹ چھپی ہوتی ہے۔ عائشہ حسین کا یہ واقعہ ہمیں کچھ دہائیاں پیچھے لے جاتا ہے، جب 2005 میں بالی وڈ کی مشہور اداکارہ پروین بابی بھی اپنے فلیٹ میں مردہ حالت میں پائی گئیں۔ کئی دن تک باہر رکھے اخبار، دودھ کی بوتلیں اور دروازے کی خاموشی نے شک پیدا کیا، تب جا کر حقیقت سامنے آئی۔پروین بابی کا بھی کوئی نہیں تھا — نہ شوہر، نہ اولاد، اور نہ ہی قریبی رشتہ دار۔ وہ بھی تنہائی اور ڈپریشن کی ماری ہوئی تھیں، مگر فرق یہ تھا کہ ان کے پاس “کوئی” نہیں تھا۔جبکہ عائشہ حسین کے پاس “اولاد” تھی… لیکن شاید دل سے نہیں۔یہ دونوں واقعات ہمیں آئینہ دکھاتے ہیں۔ بڑھاپا، تنہائی، بےخبری، اور دکھ — کیا ہم اتنے مصروف ہو گئے ہیں کہ اپنوں کی سانسوں کی آواز تک سننا بھول گئے؟آج اگر ہم کسی کے حال میں شریک نہ ہوئے، تو کل ہمارا حال بھی کوئی نہ پوچھے گا۔ہم کس معاشرے میں جینے لگے ہیں؟ جہاں خود کی خود کو خبر نہیں ہوتی میرے گھر کے سامنے ایک مسلم عربی بزرگ اکیلے، خاموش اور گمنام سے رہا کرتے تھے۔ وہ بہت کم نظر آتے تھے، اور اگر آ بھی جاتے تو بس یونہی گزر جاتے، جیسے ہوا کا کوئی ہلکا سا جھونکا۔ مگر کافی دنوں سے، بلکہ یوں کہوں کہ ہفتوں سے وہ دکھائی دینا ہی بند ہو گئے تھے۔ یہ واقعہ لگ بھگ کوئی تین مہینے پہلے کا ہوگا۔ ایک دن جب اُن کے گھر میں کچھ تعمیراتی کام ہوتا دکھائی دیا، تو میں نے اپنے برابر والے ہمسائے سے پوچھا کہ وہ بزرگ کہاں چلے گئے ہیں، کیونکہ ان دنوں میں نے انہیں ایک بار بھی نہیں دیکھا۔ ویسے بھی وہ بہت کم ہی باہر نکلتے تھے، صرف اُس وقت دروازے پر آتے تھے جب کوئی ان سے ملنے آتا۔ کبھی کبھار ایک نوجوان لڑکا آیا کرتا تھا، جو شاید اُن کا بیٹا تھا، اور بعض اوقات اُنہی عمر کے چند بزرگ حضرات بھی آتے، جنہیں دیکھ کر لگتا کہ پرانے دوست ہوں گے۔ میرا اور ان کا رشتہ محض “ہیلو ہیلو” تک محدود تھا، مگر اس مختصر سے سلام میں بھی ایک خاموش شناسائی پیدا ہو گئی تھی، ایک ایسی پہچان جو لفظوں سے نہیں بلکہ روزمرہ کی خاموش نظریں اور گزرتے لمحے بانٹتی تھیں۔ اس نے بتایا کہ کچھ مہینے پہلے۔ وہ فوت ہو چکے ہیں اور ہم ان کے جنازے میں بھی شریک ہوئے تھے، مگر مجھے اس بات کا کچھ پتہ نہیں چلا۔ حالانکہ وہ ایک Christian فیملی تھی اور انہوں نے جنازے میں بھی شرکت کی۔ اسی لمحے میرا دماغ سن ہوگیا اور قدموں تلے زمین نکل گئی۔ سوچا کہ ہم واقعی ایسے دور میں پہنچ گئے ہیں جہاں اپنے ہی گرد و پیش میں ہونے والے واقعات سے بے خبر ہیں، نہ کسی نے بتایا، نہ ہم نے پوچھا اور نہ ہی محسوس کیا۔ اس سوچ نے میرے دل میں گہری شرمندگی کا احساس جگا دیا۔ایک وقت تھا جب میرے امی اور پاپا کے اکلوتے ماموں جان تھے — ان کی چھ بیٹیاں، چھ بیٹے… اور ہم سب انہیں خالو، ماموں، پھوپھی کہا کرتے تھے۔ کبھی احساس تک نہ ہوا کہ وہ تو صرف کزنز ہیں۔ رشتوں میں اتنی گرمی، اتنی اپنائیت ہوتی تھی۔ اور تُو اور ، میری ایک پھوپھو سوتیلی تھیں، مگر مجھے یہ بات چند سال پہلے پتہ چلی جب ان کی وفات ہوئی۔ ابا جی (دادا جی) ہمیشہ کہتے تھے: “پڑوسی کی حد چالیس گھروں تک ہوتی ہے۔” مگر آج کے دور میں ہم نے خود کو چار دیواری میں قید کر لیا ہے۔ جہاں ہمسایوں کی خبر گیری تو دور کی بات ہے، خود گھر والوں کی خبر ہی نہیں ہوتی۔ گھر میں بھی دوسرے فرد کو بلانے کے لیے فون کا سہارا لیا جاتا ہے، اسے اپنے روم سے فون کر کے بلایا جاتا ہے، کبھی ہم آواز دے کر بلاتے تھے۔ ہماری دنیا بس میں، میرا گھر، میرے بچے تک محدود ہو گئی ہے۔ ماں باپ بھی اب “extended family” کا حصہ کہلاتے ہیں، اور بہن بھائی… شادی کے بعد تو جیسے دیواریں کھڑی ہو جاتی ہیں، اور وہی بہن بھائی جو بیس یا پچیس سال تک ایک ہی چھت تلے کھیل کود، لڑائی جھگڑا اور بچپن و جوانی کے دن ساتھ گزارے ہوتے ہیں، شادی کے بعد وہ سب رشتہ دار بن جاتے ہیں۔بہنیں جو بھائیوں کو رات دیر سے آنے پر والد کی ڈانٹ سے بچاتی ہیں، نئے نئے ڈشز بنا کر بھائیوں کو کھلاتی ہیں، بھائیوں کے مارکس کم آنے پر اگر انہیں ڈانٹ پڑتی ہے تو والدین کو ہی الٹا کہتی ہیں، بھائیوں کے حق میں ہمیشہ رہتی ہیں، اور بھائیوں کے کپڑے استری کر کے دیتی ہیں، بھائی بہنوں کا مان اور بھائیوں کا بازو ہوتے تھے۔ لیکن آج کے دور میں سب رشتے دار بن چکے ہیں، وہ بھی سگے نہیں، بلکہ دور کے، جن سے دل کا رشتہ بھی دھندلا سا ہو گیا ہے۔ رشتے بھی کرائے کے مکان کی طرح بن چکے ہیں، جتنا بھی چمکا لو، سجا لو، لیکن آخر میں کوئی اپنا نہیں بنتا۔ انگلینڈ میں تو اور بھی عجب دستور ہے — ماں باپ کی ذمہ داری ریاست کی، اور 18 سال تک بچوں کا خرچ بھی گورنمنٹ دیتی ہے۔ گویا رشتے بھی اب سرکاری ہو گئے ہیں۔ ہر کسی کی اپنی “privacy”، نہ کسی کو پوچھ سکتے، نہ ٹوک سکتے، نہ دکھ بانٹ سکتے، نہ سکھ۔ زندگی اب میرا فون، میرا کمرہ، میرا لیپ ٹاپ تک محدود ہو گئی ہے۔ ہم اس دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں ہمیں خود اپنی ذات کی بھی خبر نہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے وقت، پیسے اور رشتوں سے برکت روٹھ چکی ہے۔دل یہی کہتا ہے:کاش! ہم دوبارہ اپنی اصل کی طرف لوٹ جائیں،جہاں رشتہ صرف خون کا نہیں، دل کا بھی ہوتا تھا۔






