تازہ ترین

کراچی : حکومت کی طر ف سے مہنگائی کم ہونے کے دعوے بیوروآف شماریات کی رپورٹ کیا جانا درست نہیں ہیں؛ لیاقت علی ساہی

کراچی : مزدور رہنمالیا قت علی ساہی ڈیموکریٹک ورکرز فیڈریشن اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے سیکریٹری جنر ل نے حکومت کی طرف سے مہنگائی کم ہونے کے دعوؤں پر اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت یہ دعوے بیوروآف شماریات کی رپورٹ کی بنیاد پر کر رہی ہے جو کہ درست نہیں ہیں اس پر کبھی بھی پارلیمنٹ کی سطح بحث نہیں ہوئی کہ بیوروآف شماریات نے کس نظام کے تحت مہنگائی کم اور زیادہ کے عداد و شمار جاری کئے ہیں۔ بیوروآف شماریات نے جو باسکٹ مہنگائی کے تعین کیلئے بنائی ہوئی ہے اس میں بعض ایسے آئیٹم شامل کئے گئے ہیں جس کا عام یعنی کہ مزدوروں ، کسانوں اور متوسط طبقے سے کوئی تعلق نہیں ہے وہ اس لئے شامل کئے جاتے ہیں تاکہ مہنگائی کے تناسب کو کنٹرول کیا جاسکے ۔ بیورو آف شماریات وفاقی سطح پر جن ذرائع کے ذریعے رپورٹ مرتب کرتی ہے وہ بھی درست نہیں ہیں کچھ لوگ شیشے کے چیمبروں میں بیٹھ کر بازاروں کے ریٹ تیار کرتے ہیں جو کہ زمینی حقائق کے بالکل برعکس ہوتے ہیں یہی وجہ کے عوام مہنگائی کی چکی میں پستی چلی جارہی ہے دوران ِ کرونا بھی بیوروآف شماریات کی رپورٹ درست نہیں تھی مہنگائی کی شرح زمینی حقائق سے کہیںزیادہ تھے جس کا عوام سامنا کرتی رہی ہے لیکن اسے بیوروآف شماریات کی ذریعے کنٹرول کیا جاتا رہا اور اور مہنگائی کی باسکٹ ایک عوام کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے ۔ جب مہنگائی 40 فیصد تھی اُس وقت بھی درست نشاندھی نہیں کی جارہی تھی چونکہ اُس وقت عوام کو ساٹھ سے ستر فیصد مہنگائی کا سامنا تھا اس وقت بھی اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور بیوروآف شماریات کی ملی بھگت سے مہنگائی کی باسکٹ مصنوعی طریقے سے کنٹرول کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی کی شرح تعلیم، صحت، کھانے کی اشیاء ، کپڑے اور شوز اور ٹرانسپورٹ کے آئیٹم پر مہنگائی کا تناسب لیا جائے تو اس وقت بھی بہت زیادہ ہے لیکن مہنگائی کی باسکٹ میں ایسے آئیٹم شامل کئے جاتے ہیںان کا نوے فیصد عوام سے کوئی تعلق نہیں ہوتا وہ صرف اشرافیہ سے تعلق رکھتے ہیںاس گورکھ دھندے کی بنیاد پر عوام کو دھوکہ دیا جاتا ہے اس ناانصافی کی وجہ سے عوام کی اکثریت کے ساتھ بہت بڑی زیادی تمام حکومتوں نے کی ہیں اور کبھی بھی مہنگائی کے سسٹم کو پارلیمنٹ کی سطح پر زیر بحث لا کر کوشش نہیں کی گئی کہ مہنگائی کے سسٹم کو شفاف مرتب کرکے عوام کے سامنے درست حقائق رکھے جائیں ۔ انہوں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ تمام منتخب نمائندوں کو ہدایت جاری کریں کہ بیوروآف شماریات کی کم سے کم پندرہ سالوں کی ماہانہ مہنگائی پر مرتب ہونے والی رپورٹس کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے اور ان سے دریافت کیا جائے کس سسٹم کے تحت مہنگائی کا تناسب جاری کیا جاتا آپ دیکھیں گے بہت سے حقائق عوام کے سامنے آئیں گے فرسودہ نظام کی وجہ سے ریاست کا نظام آگے نہیں بڑھ رہا جو کہ عوام کے ساتھ بہت بڑی ناانصافی ہے اس پر تمام سیاسی پارٹیاں، مزدور اور سول سوسائیٹی کی تنظیمیں آواز بلند کریں تاکہ پسے ہوئے طبقوں کو انصاف کی فراہمی کو یقین بنایا جاسکے۔

This will close in 45 seconds

This will close in 38 seconds

This will close in 30 seconds

This will close in 20 seconds