تازہ ترین

ماں کے پیروں کا پانی پینے سے شفاء : انتخاب و پیشکش ؛ احمد بن انعام/محمد بن انعام/موحد بن انعام

ڈاکٹر نیاز احمد بلوچ، پروفیسر نشتر میڈیکل کالج ملتان، نے ایک عجیب واقعہ تحریر کیا:ڈاکٹر بلوچ صاحب ملتان سے باہر امتحان لینے گئے ہوئے تھے۔ وہاں ان کے بھائی کی شدید علالت کی اطلاع ملی۔ وہ فوراً ڈیرہ غازی خان پہنچے جہاں بتایا گیا کہ ان کے بھائی سخت بیمار ہیں، اس لیے انہیں نشتر ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا ہے۔ڈاکٹر بلوچ صاحب جب نشتر ہسپتال پہنچے تو معلوم ہوا کہ بھائی کو دل کا شدید عارضہ لاحق ہے۔ حالت نہایت کمزور تھی، پورے جسم پر ورم تھا اور سانس پھولا ہوا تھا۔ متعلقہ ڈاکٹروں کی طرف سے بھی کوئی حوصلہ افزا خبر نہیں تھی۔ڈاکٹر بلوچ صاحب نے دیکھا کہ ان کے علیل بھائی اپنی والدہ، جو سامنے پلنگ پر بیٹھی تھیں، کے پیروں کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ میں نے غور کیا تو والدہ صاحبہ کے جوتے کا ایک حصہ ٹوٹا ہوا تھا، میں نے سمجھا شاید وہ اسی طرف اشارہ کر رہے ہیں، تو کہا: “میں جوتا ٹھیک کروا دوں گا۔” مگر علیل بھائی بار بار والدہ کے قدموں کی طرف اشارہ کرتے رہے۔میں قریب ہو کر پوچھنے لگا: “پاؤں میں کیا ہے؟”انہوں نے کہا: “میری ماں کے پاؤں کو دھو کر وہ پانی مجھے پلا دو، میں ٹھیک ہو جاؤں گا۔”چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا۔والدہ کے پاؤں دھو کر وہ پانی اپنے بھائی کو پلایا۔ اس کے فوراً بعد پیشاب کا جلاب شروع ہوا — ایسا محسوس ہوا جیسے کوئی پیشاب آور انجکشن لگا دیا گیا ہو۔ یہ جلاب سارا دن اور ساری رات جاری رہا۔اگلی صبح جب ماہرِ امراضِ قلب مریض کو دیکھنے آئے تو حیران رہ گئے — حالت میں نمایاں بہتری تھی۔جب انہوں نے پوچھا کہ یہ کیسے ہوا تو میں نے “پاؤں کے پانی” کا واقعہ بتایا۔ سب حیرت زدہ رہ گئے۔ چند ہی دنوں میں اللہ تعالیٰ نے میرے بھائی کو مکمل شفا عطا فرما دی۔یہ سب والدہ صاحبہ کے پیروں کے صدقے سے ہوا۔پروفیسر ڈاکٹر نور احمد نور صاحب لکھتے ہیںکافی سال قبل میں اپنی والدہ محترمہ، جو راجن پور میں بیمار تھیں، کی عیادت کے لیے جایا کرتا تھا۔ ایک دن جمعے کے دن ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ واپسی پر دعا کی درخواست کی تو انہوں نے بڑی دعائیں دیں۔واپسی پر دریائے سندھ عبور کرنے کے بعد ایک بہت بڑی، تقریباً ۲۰ فٹ گہری اور ۳۰ فٹ چوڑی نہر سامنے آئی جو پانی سے لبالب بھری ہوئی بہہ رہی تھی۔ جمعے کی نماز کا وقت ہو چکا تھا۔ میں نے گاڑی ایک طرف کھڑی کی، ڈرائیور وضو کر کے نماز میں شامل ہو گیا۔میں نہر کے کنارے وضو کر رہا تھا کہ اچانک وہ کنارہ، جو شاید نیچے سے پانی نے کھوکھلا کر دیا تھا، ٹوٹ کر بہہ گیا اور میں نہر میں جا گرا۔دو تین ڈبکیاں لگیں، میں نہر کے بیچ پہنچ گیا۔ چونکہ تیرنا نہیں جانتا تھا، لہٰذا پانی میں ڈبکیاں آنے لگیں، سر چکرانے لگا۔ میں نے زور سے مدد کے لیے آواز دی مگر سوائے چند جانوروں کے کوئی موجود نہ تھا۔ میرا ڈوب جانا یقینی نظر آ رہا تھا۔اچانک میں نے ایک ہاتھ دیکھا جس نے مجھے مضبوطی سے پکڑ کر نہر کے درمیان سے گھسیٹتے ہوئے کنارے پر پہنچا دیا۔ میں نے خود کو کیچڑ اور پانی سے لت پت پایا۔ بڑی کوششوں اور ذکر و اذکار کے بعد کسی طرح نہر سے نکلنے میں کامیاب ہوا۔کپڑے گیلے اور کیچڑ سے بھرے ہوئے تھے، مگر میں نے اسی حالت میں جا کر جمعے کی نماز کی آخری رکعت میں شرکت کی۔نمازیوں نے میری حالت دیکھ کر حیرت ظاہر کی۔مجھے پورا یقین ہے کہ مجھے ڈوبنے سے میری والدہ کی دعا نے بچایا۔ اس کے علاوہ کوئی ظاہری سبب نہیں تھا۔۔ (ماہنامہ “محاسنِ اسلام” — جنوری 2009ء)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

*

This will close in 45 seconds

This will close in 38 seconds

This will close in 30 seconds

This will close in 20 seconds